بنگلہ دیش میں رنگ پور سے لے کر ڈھاکہ تک طلبا میں عدم اطمینانی، تنظیموں میں تصادم
ڈھاکہ، 05 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے وقت جولائی میں بغاوت کے دوران جمہوری بیداری کی علامت رہے تعلیمی ادارے دو سال بعد میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ دو دنوں کے اندر بنگلہ دیش جاتیہ وادی چھاترو دل (جے سی ڈی) اور
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں چار اگست کو بخش بازار میں واقع ڈھاکہ عالیہ مدرسے میں بنگلہ دیش جاتیہ وادی چھاترو دل (جے سی ڈی) اور اسلامی چھاترو شبیر کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ فوٹو: ڈھاکہ ٹریبیون


ڈھاکہ، 05 اگست (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے وقت جولائی میں بغاوت کے دوران جمہوری بیداری کی علامت رہے تعلیمی ادارے دو سال بعد میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ دو دنوں کے اندر بنگلہ دیش جاتیہ وادی چھاترو دل (جے سی ڈی) اور اسلامی چھاترو شبیر کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں رنگ پور کی بیگم روکیا یونیورسٹی سے لے کر دارالحکومت کی جگن ناتھ یونیورسٹی، ڈھاکہ کالج اور گورنمنٹ مدرسہ عالیہ تک پھیل گئیں۔ اس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کو جانچ شروع کرنی پڑی اور اضافی پولیس فورس تعینات کرنی پڑی۔ یہ تشدد نظریات، کیمپس میں اثر و رسوخ اور تنظیمی دباو کو لے کر حریف طالب علم تنظیموں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ہوا۔

ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کی رپورٹ کے مطابق، پہلی بڑی جھڑپ پیر کی شام بیگم روکیا یونیورسٹی میں ’جولائی بغاوت ڈے‘ کے موقع پر منعقدہ ایک نمائش کے دوران ہوئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، تشدد اس وقت شروع ہوا جب چھاترو دل کے کارکنوں نے ’’عدالتی قتل‘‘ عنوان والے ایک بینر پر اعتراض ظاہر کیا۔ اس بینر پر جماعتِ اسلامی اور بی این پی کے ان چھ لیڈروں کی تصاویر تھیں، جنہیں 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تنازعہ تشدد میں بدل گیا۔ کیمپس میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت تک لاٹھی ڈنڈے چلے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دونوں طالب علم تنظیموں کے کارکنوں کے پاس دھار دار ہتھیار، ہاکی اسٹک، لوہے کی راڈیں، بانس کے ڈنڈے اور ہیلمٹ تھے۔ اس دوران کیمپس کے باہر ٹریفک رک گیا۔ دونوں تنظیموں نے تشدد بھڑکانے کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ بعد میں یونیورسٹی انتظامیہ نے حادثے کی جانچ کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ یہ طلبا کی بدامنی منگل کی صبح تک ڈھاکہ میں پھیل گئی۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں واقع جگن ناتھ یونیورسٹی میں ایک ڈاکومنٹری اسکریننگ کے دوران حریف طالب علم گروہ آپس میں بھڑ گئے۔ اس دوران یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مامون احمد بھی موجود تھے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ تناو اس وقت شروع ہوا جب جگن ناتھ یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین اور جاتیہ چھاترو شکتی کے ارکان کیمپس سے متعلق کئی مطالبات کو جلد نافذ کرنے کے مطالبات والے پلے کارڈز لے کر آڈیٹوریم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔

چھاترو دل کے کارکنوں کی مداخلت کے بعد صورتحال خراب ہو گئی اور بالآخر بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا۔ بعد میں جھڑپیں نیشنل میڈیکل کالج اسپتال تک پہنچ گئیں۔ یہاں زخمی طلبا کو علاج کے لیے لے جایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ منگل کی شام تک 70 سے زیادہ زخمی لوگوں کا علاج کیا گیا۔

اس تشدد میں چھاترو دل، شبیر، جاتیہ چھاترو شکتی اور یونیورسٹی کی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے لیڈران کے ساتھ ساتھ کئی صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ کالج بھی تشدد سے محفوظ نہیں رہا۔ عینی شاہدین نے جھڑپ، اینٹ پتھر پھینکنے اور لاٹھیوں و لوہے کی راڈوں کے کھلے عام مظاہرے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہاں تقریباً 20 لوگ زخمی ہوئے۔ دوپہر میں بخش بازار کے گورنمنٹ مدرسہ عالیہ میں تشدد پھیل گیا۔ اس تشدد میں پرنسپل سمیت کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ منگل کی رات بیگم روکیا یونیورسٹی انتظامیہ اور جگن ناتھ یونیورسٹی انتظامیہ نے جانچ کمیٹیوں کا اعلان کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande