امریکی سپریم کورٹ نے فلسطینی تنظیموں پر 655.5 ملین ڈالر معاوضے کا فیصلہ برقرار رکھا
واشنگٹن، 5 اگست (ہ س)۔ امریکی سپریم کورٹ نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی اس اپیل کو خارج کر دیا ہے، جس میں 2000ء کے عشرے میں اسرائیل میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے اور زخمی ہوئے امریکی شہریوں کے خاند
امریکی سپریم کورٹ فائل فوٹو


واشنگٹن، 5 اگست (ہ س)۔ امریکی سپریم کورٹ نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی اس اپیل کو خارج کر دیا ہے، جس میں 2000ء کے عشرے میں اسرائیل میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے اور زخمی ہوئے امریکی شہریوں کے خاندانوں کو 655.5 ملین ڈالر (تقریباً 6,244.77 کروڑ روپے) کا معاوضہ دینے کے حکم پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

روس کے بین الاقوامی خبر رساں ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے (آر ٹی) کے مطابق، جسٹس سونیا سوٹومایور نے پیر کو اس اپیل کو بغیر کسی تبصرے کے خارج کر دیا۔ اس سے نچلی عدالت کا معاوضے سے متعلق فیصلہ برقرار ہے۔

پی اے اور پی ایل او نے اپنی اپیل میں دلیل دی تھی کہ اتنی بڑی رقم کی ادائیگی سے فلسطینی معیشت شدید بحران میں مبتلا ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بے روزگاری بڑھے گی، صحت، تعلیم، نظامِ انصاف اور عوام کی حفاظت جیسی ضروری خدمات متاثر ہوں گی نیز ویسٹ بینک میں عدم استحکام اور تشدد کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ معاملہ ان امریکی خاندانوں کی طرف سے دائر مقدمات سے منسلک ہے، جن کے اہل خانہ 04-2002 کے درمیان سیکنڈ انتفاضہ کے دوران اسرائیل میں ہوئے چھ دہشت گردانہ حملوں میں مارے گئے یا زخمی ہوئے تھے۔

اس معاملے میں 2016ء میں ایک وفاقی اپیل عدالت نے دائرہ اختیار کی بنیاد پر پہلے کا فیصلہ پلٹ دیا تھا۔ تاہم، 2019ء میں امریکی کانگریس کی طرف سے منظور کردہ قانون کے بعد معاملہ دوبارہ شروع ہوا، جس نے بیرونِ ملک ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرہ امریکی شہریوں کو معاوضے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا حق دیا۔ گزشتہ سال سپریم کورٹ نے اس قانون کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا تھا۔

اس دوران، ویسٹ بینک پہلے ہی شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے جمع کیے گئے ٹیکس آمدنی کا بڑا حصہ روکے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ اس رقم کا استعمال دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ فلسطینی انتظامیہ اسے ”مالی طور پرگھیرنے کی کوشش“ قرار دیتی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر معاوضے کی پوری رقم وصول کی جاتی ہے تو فلسطینی انتظامیہ پر مالی دباو مزید بڑھ سکتا ہے۔ وہیں، معاملے کو لے کر دونوں فریقین کے درمیان قانونی اور سیاسی تنازعہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande