
علی گڑھ, 5 اگست (ہ س): علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مولانا آزاد لائبریری نے کلیریویٹ کے اشتراک سے لائبریری کے کلچرل ہال میں ‘‘مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے پروکوئیسٹ ڈزرٹیشنز اینڈ تھیسز گلوبل کے ذریعہ تحقیق کے معیار کا استحکام’’ کے عنوان سے ایک ورکشاپ منعقد کی جس کے ذریعہ اساتذہ، محققین اور طلبہ کو پروکوئیسٹ ڈیزرٹیشنز اینڈ تھیسز گلوبل (پی کیو ڈی ٹی گلوبل) ڈیٹا بیس کی جدید مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ خصوصیات سے متعارف کرایا گیا۔ اس ڈیٹا بیس میں ریسرچ اور ماسٹرز سطح کے 6 ملین سے زائد تحقیقی مقالات کے ریکارڈز اور 4 ملین سے زائد متون پر مشتمل دستاویزات شامل ہیں، جو علمی تحقیق میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کلیریویٹ، ایشیا پیسیفک کے سینئر کسٹمر سکسیز منیجر مسٹر سنجے راجن نے پروکوئیسٹ ڈیزرٹیشنز اینڈ تھیسز گلوبل پلیٹ فارم میں شامل مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ محققین کو اہم نکات اخذ کرنے، بنیادی تصورات کو سمجھنے، مجوزہ تحقیقی موضوعات دریافت کرنے، سیاق و سباق پر مبنی تلاش میں رہنمائی حاصل کرنے، حوالہ جات تیار کرنے اور تحقیقی روابط کے نیٹ ورک کو دریافت کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے ورکشاپ کی کنوینر اور یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے کلیدی مقرر مسٹر سنجے راجن کا ان کی علمی رہنمائی اور تجربات کے اشتراک پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت سے مزین تحقیقی پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور معیاری تحقیق، اختراع کے فروغ اور عالمی علمی وسائل تک رسائی میں پروکوئیسٹ ڈیزرٹیشنز اینڈ تھیسز گلوبل ڈیٹا بیس کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
ورکشاپ میں 100 سے زائد شرکاء نے پلیٹ فارم کی جدید تحقیقی خصوصیات کا عملی تجربہ حاصل کیا۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر جعفر اقبال، اسسٹنٹ لائبریرین نے کی، جبکہ ڈاکٹر صبا نسرین بانو، اسسٹنٹ لائبریرین نے اظہارِ تشکر کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ