بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں: اشوک گہلوت
جودھ پور، 4 اگست (ہ س)۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ایک بار پھر ریاستی حکومت کو مختلف مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے بعض وزرائ اور ارکانِ اسمبلی زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور بدعنوانی میں ملوث ہیں۔
بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں: اشوک گہلوت


جودھ پور، 4 اگست (ہ س)۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ایک بار پھر ریاستی حکومت کو مختلف مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے بعض وزرائ اور ارکانِ اسمبلی زمینوں پر غیر قانونی قبضوں اور بدعنوانی میں ملوث ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ کھینوسر کے بی جے پی رکن اسمبلی ریوت رام ڈانگا پر 205 بیگھا زمین پر قبضے کا الزام ہے، جبکہ مرکزی وزیر بھاگیرتھ چودھری نے مبینہ طور پر 90 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی، جسے تنازع سامنے آنے کے بعد واپس کرنا پڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادے پور کے بعض ارکانِ اسمبلی بھی قبائلی خاندانوں کی زمینوں پر قبضے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔گہلوت نے کہا کہ راجستھان میں صحت کا نظام بدحال ہے، اسپتالوں میں آکسیجن، ایکسرے اور دیگر بنیادی سہولتوں کی کمی ہے، جبکہ قانون و انتظام کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور قتل، لوٹ مار اور دیگر جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے آئندہ پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی متحد ہے اور عوام موجودہ حکومت سے مایوس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں بدعنوانی بڑھ رہی ہے، عوامی شکایات سننے کا مؤثر نظام موجود نہیں اور حکمرانی کا فقدان ہے۔اشوک گہلوت نے مان گڑھ دھام کو قومی یادگار قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا اور اراولی پہاڑی سلسلے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس کی حفاظت نہ کی گئی تو راجستھان کو شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ رام مندر چندہ معاملے پر انہوں نے کہا کہ اگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande