
امراوتی، 4 اگست (ہ س)۔
مہاراشٹر کے ودربھ خطے کے ضلع ایوت محل میں کسانوں کی خودکشیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جون 2026 کے دوران صرف چھ ماہ میں ضلع کے 152 کسانوں نے مختلف معاشی اور سماجی مسائل کے باعث اپنی جان لے لی، جس کے بعد ایک بار پھر زرعی بحران اور کسانوں کی حالتِ زار پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع کے راہے گاؤں، مارے گاؤں، داروا، پوسد، مہاگاؤں اور ایوت محل تعلقوں میں خودکشیوں کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ان علاقوں میں آبپاشی کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے اور بیشتر کسان بارش پر منحصر کپاس اور سویابین کی کاشت کرتے ہیں۔ موسمی بے یقینی، قدرتی آفات، فصلوں کی کم پیداوار اور مناسب قیمت نہ ملنے کے باعث چھوٹے اور متوسط درجے کے کسان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تر کسانوں کی عمر 30 سے 50 سال کے درمیان تھی۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے خاندانوں کی کفالت، بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا۔ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، بینکوں اور نجی قرض دہندگان کے قرض، اور مسلسل معاشی دباؤ نے متعدد کسانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ کم رقبے کے مالک اور معمر کسان بھی اس بحران سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بیشتر کسانوں نے زرعی زہریلی دوا پی کر یا پھندا لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا، جس سے دیہی علاقوں میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں اضافے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 25، فروری میں 31، مارچ میں 27، اپریل میں 31، مئی میں 16 اور جون میں 22 کسانوں نے خودکشی کی۔ اس سے قبل سال 2024 میں ضلع میں 300 سے زائد جبکہ 2025 میں 342 کسانوں کی خودکشی کے واقعات درج کیے گئے تھے۔ اس طرح گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران 800 سے زیادہ کسان اپنی جان گنوا چکے ہیں۔
ریاستی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شیتکری سوالمبن مشن اور بلی راجا چیتنا پروجیکٹ جیسے منصوبوں کے تحت مشاورت اور امدادی اقدامات کیے جانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ فصلوں کی مناسب امدادی قیمت نہ ملنا، فصل بیمہ کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر اور قرضوں کا بڑھتا بوجھ انہیں مسلسل بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔
صرف چھ ماہ میں 152 کسانوں کی خودکشی نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ زرعی شعبے کو درپیش بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے بغیر کسانوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔
ہندوستان سماچار / جاوید این اے