
واشنگٹن، 4 اگست (ہ س)۔ امریکہ میں بھارتی نژاد ایک شخص اور پاکستانی نژاد دو افراد سمیت 17 ممالک کے 25 افراد کی امریکی شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ان افراد پر جعلی شناخت استعمال کرنے، قتل کی کوشش، بچوں کے جنسی استحصال اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات ہیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے مقامی وقت کے مطابق 3 اگست کو اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا کہ اس کارروائی کے دائرے میں پاکستان، مالدووا، بھارت، میکسیکو، کولمبیا، نائیجیریا، لائبیریا، گھانا، جمیکا، تائیوان، ہونڈوراس، کیمرون، اردن، کیوبا، ایل سلواڈور، ہیٹی، سوئیڈن اور پیرو سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
شہریت منسوخی کی کارروائی کی زد میں آنے والوں میں بھارتی نژاد 65 سالہ نریندر سنگھ، پاکستانی نژاد ضیائ مراد بھٹی اور محمد واصف بھی شامل ہیں۔ بھارتی نژاد نریندر سنگھ کے خلاف امریکی ریاست ڈیلاویئر کی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے کہا، ’’امریکی شہریت اس ملک کے سب سے بڑے اعزازات اور مراعات میں سے ایک ہے، جسے صرف قانونی اور دیانت دارانہ طریقے سے حاصل کیا جانا چاہیے۔ ان افراد نے دھوکہ دہی، حقائق چھپانے اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے امریکی شہریت حاصل کی۔ ان پر بچوں کے خلاف جنسی جرائم، جعلی شناخت اور دیگر سنگین الزامات ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف کی تاریخ میں یہ شہریت منسوخی کی سب سے بڑی مربوط کارروائی ہے، تاہم یہ صرف آغاز ہے۔‘‘
محکمہ انصاف کے سول ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بریٹ اے شومیٹ نے کہا، ’’آج کا دن امریکی تاریخ میں شہریت منسوخی کی سب سے بڑی کارروائی کا گواہ ہے۔ ان تمام افراد نے ایسے جرائم کیے ہیں جو امریکی شہریت کے وقار اور تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی لیے ان کی شہریت منسوخ کرنے کا عمل تیز رفتاری سے شروع کیا گیا ہے۔‘‘
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ان افراد کے خلاف امریکہ کی مختلف ضلعی عدالتوں میں شہریت منسوخ کرنے کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ یہ شکایات 20 جولائی سے 3 اگست کے درمیان درج کی گئیں۔ محکمہ انصاف کے مطابق رواں برس 20 جنوری سے اب تک شہریت منسوخی کے لیے مجموعی طور پر 123 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ انصاف نے بتایا کہ بھارتی نژاد نریندر سنگھ کے خلاف ڈیلاویئر ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر مقدمے میں الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ میں داخلے کے لیے جعلی شناخت استعمال کی۔ نریندر سنگھ نے 1996 سے امریکہ میں داخل ہونے کے لیے دو مختلف شناختی دستاویزات کا استعمال کیا اور یکم مئی 2008 کو امریکی شہریت حاصل کی۔ ان کے خلاف مقدمے میں سات الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan