
لکھنو، 4 اگست (ہ س)۔ منگل کو یوپی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، سماج وادی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے پر ویل پر آکر ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ ہنگامہ آرائی کے درمیان اسمبلی کو تقریبا 10 منٹ کے لیے دوپہر 12.20 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ ایس پی ایم ایل اے ویل میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
جیسے ہی ایوان کا دن بھر کا اجلاس شروع ہوا، قائد حزب اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے ایوان میں رام مندرمیں چڑھاوا چوری کے معاملے پر قاعدہ 311 کے تحت بحث کا مطالبہ کیا۔ اس پر اسپیکر ستیش مہانا نے بنچ کو بتایا کہ یہ کوئی فوری مسئلہ نہیں ہے جس پر ایوان کی دیگر کارروائیوں کو روک کر بحث کی جائے۔
حکومت کی جانب سے پارلیمانی امور کے وزیر کھنہ نے کہا کہ 1990 نے ان کا اعتقاد دیکھا ہے۔ ان لوگوں نے رام کے عقیدت مندوں پر گولیاں چلائیں۔ ان لوگوں نے رام مندر کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بنچ کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کھنہ نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ اس لیے اس مسئلے پر یہاں ایوان میں بحث نہیں کی جا سکتی۔ جو لوگ رام پر کبھی یقین نہیں رکھتے تھے وہ آج رام مندر پر اعتقادظاہر کر رہے ہیں۔
اسپیکر مہانہ نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ زاہد بیگ، عمر علی اور شاہد منظور بھی رام مندر کے بارے میں فکر مند ہیں۔ مذہبی عقیدے کو ٹھیس پہنچانا ٹھیک نہیں ہے۔ بینچ سے اسپیکر نے اپوزیشن پارٹی کے اراکین کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود احتجاج جاری رہا۔ تقریبا 11 بج کر 10 منٹ پر اسپیکر نے ایوان کو 12 بج کر 20 منٹ تک ملتوی کر دیا۔
اس سے قبل ایس پی اراکین نے ودھان بھون میں چودھری چرن سنگھ کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی