ایودھیا کی گلیوں اور سر یو کی دھارا کو خون میں نہلانے والے ایس پی لیڈران آج عقیدت کی بات کر رہے ہیں: یوگی آدتیہ ناتھ
ایودھیا کی گلیوں اور سر یو کی دھارا کو خون میں نہلانے والے ایس پی لیڈران آج عقیدت کی بات کر رہے ہیں: یوگی آدتیہ ناتھ ۔ وزیراعلیٰ نے کہا، ایوان میں سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن کا رویہ بے ہودہ، غیر آئینی اور شرمناک۔ سماج وادی پارٹی کو آئین اور ج
ایوان سے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی


ایودھیا کی گلیوں اور سر یو کی دھارا کو خون میں نہلانے والے ایس پی لیڈران آج عقیدت کی بات کر رہے ہیں: یوگی آدتیہ ناتھ

۔ وزیراعلیٰ نے کہا، ایوان میں سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن کا رویہ بے ہودہ، غیر آئینی اور شرمناک۔ سماج وادی پارٹی کو آئین اور جمہوریت پر بھروسہ نہیں: وزیراعلیٰ

لکھنو، 04 اگست (ہ س)۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ارکان کے ہنگامے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایوان کی کارروائی نہ چلنے دینا جمہوری روایتوں کی توہین ہے۔ ایوان ملتوی ہونے کے بعد وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایوان سے باہر میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں نے 1990 میں ایودھیا کی گلیوں اور سر یو کی دھارا کو خون میں نہلانے کا کام کیا، وہ آج عقیدت کی بات کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی ہنگامہ آرائی کرنے میں آگے رہتی ہے اور ان کا آئین اور جمہوریت پر کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس لیے آج بھی یہ ایوان میں بحث کے لیے تیار نہیں ہوئے اور آئین کی دھجیاں اڑاتے رہے۔

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ایودھیا شری رام مندر کے چڑھاوے سے جڑے پورے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بھی سماج وادی پارٹی نے نہ صرف آج ایوان کی توہین کی ہے، بلکہ عدالت کی نگرانی میں چل رہے اس پورے عمل کو بھی ذلیل کرنے کی شرمناک کوشش کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایوان میں اسمبلی اسپیکر نے بار بار کہا کہ ہم بحث کو قبول کرتے ہیں، اپنی بات کو قواعد کے تحت ایوان میں رکھیے لیکن سماج وادی پارٹی کے ارکان نے من مانا رویہ اپنایا جس سے ایوان کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت اور شرمناک بھی ہے۔ آئینی اداروں کی توہین کرنا سماج وادی پارٹی کا مشغلہ ہے۔ سماج وادی پارٹی کا ہمیشہ سے جمہوری اقدار پر کبھی بھروسہ نہیں رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی جس پارٹی کا اہم مقصد رہا ہو، وہ لوگ جمہوری نظام پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ کبھی میڈیا پر حملہ کرتے ہیں، تو کبھی آئینی اداروں پر حملہ کرتے ہیں اور وہ عدالت کی بات بھی نہیں مانتے۔

وزیراعلیٰ یوگی نے آگے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے ارکان ایوان میں قواعد اور روایتوں کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ لوگ ہندوستان کے آئینی اداروں کی توہین کرتے ہیں۔ کبھی الیکشن کمیشن کی توہین کرتے ہیں۔ کبھی کسی ٹریبیونل یا عدالت کے تحت کام کرنے والے کسی کمیشن میں زیرِ التوا کسی معاملے کی زبردستی بحث کے لیے بے بنیاد مسائل اٹھا کر ایس پی ارکان کی جانب سے ماحول میں صرف منفی اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن چندہ چوری کی بات کرتے ہیں لیکن وہاں چندہ چوری نہیں بلکہ چڑھاوے سے جڑا ایک مسئلہ سامنے آیا تھا۔ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ نے اس معاملے میں 12 جون کو اتر پردیش حکومت کو خط لکھا کہ اس معاملے کی ایک ایس آئی ٹی تشکیل دے کر جانچ کرا لی جائے۔ ریاستی حکومت نے 13 جون کو ٹرسٹ کی درخواست پر ایس آئی ٹی تشکیل دے دی۔ اس میں سکریٹری سطح کے سینئر افسر کو چیئرمین، ایک افسر کو رکن اور مالیاتی امور کے ماہر ایک اسپیشل سکریٹری بنک کے افسر کو رکن بنا کر کمیٹی کو کام سونپا گیا کہ جانچ کر اپنی رپورٹ فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی نے 15 جون سے کام شروع کیا اور پہلی عبوری رپورٹ پیش کی۔ ٹرسٹ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی اور کل آٹھ ملزمان پکڑے گئے۔ ایس آئی ٹی جانچ کے درمیان سپریم کورٹ نے آگے کی کارروائی کے لیے ایس آئی ٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی اس پورے معاملے کی جانچ آگے بڑھائی۔ اس معاملے میں کسی بھی سادھو سنت کا نام کہیں بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹرسٹ میں 1100 سے زائد لوگ کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کل آٹھ لوگوں کا کردار اس معاملے میں پایا گیا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی کے ذریعے سنتوں اور ایودھیا دھام کو ذلیل کرنا اور بدنام کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہمیشہ رام جنم بھومی اور بھگوان شری رام کی توہین کی، 1990 میں ایودھیا کی گلیوں کو خون میں نہلانے کا گناہ سماج وادی پارٹی نے رام بھکتوں پر گولیاں چلا کر کیا تھا، وہ آج کس منہ سے خود کو رام بھکت بتا رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے اراکینِ پارلیمنٹ اور لیڈروں نے سنتوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا ہے، وہ سناتن دھرم کی توہین ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا رویہ ہمیشہ سے سناتن مخالف رہا ہے۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے رام جنم بھومی مندر کی ہمیشہ مخالفت کی، شری رام جنم بھومی مندر میں رام للا کی پران پرتشٹھا تقریب کا دعوت نامہ ملنے کے باوجود نہیں گئے، آج وہ عقیدت کی بات کرتے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ منگل کو قبل دوپہر 11 بجے اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی تو اہم اپوزیشن جماعت سماج وادی پارٹی نے رام مندر میں چڑھاوے کی چوری کے معاملے پر ایوان میں رول 311 کے تحت بحث کرائے جانے کے مطالبے کو لے کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ ایس پی کے ارکان ایوان کے بیچوں بیچ آ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ اسپیکر اسمبلی کو 10 منٹ میں ہی ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ ایس پی کے ارکان ایوان کے بیچوں بیچ دھرنے پر بیٹھ گئے۔ دوپہر 12.20 بجے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایک بار پھر ایس پی ارکان ہنگامہ کرنے لگے۔ اسپیکر اسمبلی ستیش مہانا کے بار بار التجا اور ہدایت کے باوجود وہ لوگ نہیں رکے اور نعرے بازی کرتے رہے۔ ہنگامے کے درمیان قانون سازی سے جڑے کام نمٹائے گئے اور زبانی ووٹ کے ساتھ ترمیمی بل منظور کیے گئے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ ایوان میں بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن کا ہنگامہ مزید بڑھ گیا۔ ہنگامے کو دیکھتے ہوئے اسمبلی بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande