ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف 25 ریاستیں متحد، یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ پہنچیں
واشنگٹن، 4 اگست (ہ س)۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے زیرِ اقتدار 25 ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ان ریاستوں نے یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ امریکی وقت کے مطابق پیر
علامتی تصویر


واشنگٹن، 4 اگست (ہ س)۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے زیرِ اقتدار 25 ریاستوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ان ریاستوں نے یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ امریکی وقت کے مطابق پیر کو اس مقدمے کے سلسلے میں نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیٹیا جیمز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ غیر قانونی طور پر خاندانوں اور کاروباروں پر ٹیکس بڑھا رہی ہے۔ ٹرمپ کا منطق ہے کہ اعلیٰ ٹیرف امریکی مینوفیکچرنگ کو نئی زندگی دیں گے۔ انہوں نے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکانومک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے تجارتی خسارے کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے تقریباً ہر ملک سے آنے والی در آمدات پر ٹیرف عائد کر دیا۔

امریکی نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، ان ریاستوں کا الزام ہے کہ نیا ٹیرف فروری میں سپریم کورٹ سے منسوخ کیے گئے در آمدی ٹیکسوں کو بدلنے کا ایک بہانہ ہے۔ گزشتہ ماہ جولائی میں امریکہ نے 59 ممالک اور یورپی یونین پر دوہرے ہندسے والے ٹیرف عائد کیے۔ یہ ٹیرف جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ در آمدات پر مناسب کارروائی نہیں کرنے کے الزام میں لگائے گئے۔ دراصل سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا تھا کہ آئی ای ای پی اے ٹیرف کو مجاز نہیں بناتا۔ اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو ٹیرف ادا کرنے والے در آمد کنندگان کو رقم واپس کرنی پڑی۔

اس کے بعد محصولات کی بھرپائی کے لیے ٹرمپ نے عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کیے، جن کی مدت 24 جولائی کو ختم ہو گئی۔ اب ٹرمپ 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی دفعہ 301 کے تحت زیادہ مستقل ٹیرف لگا رہے ہیں۔ یہ دفعہ صدر کو غیر منصفانہ تجارتی طریقوں میں ملوث ممالک کے خلاف در آمدی ٹیکس لگانے کی اجازت دیتی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ اقتدار میں چین پر بڑے ٹیرف لگانے کے لیے دفعہ 301 کا استعمال کیا تھا اور وہ عدالتی چیلنجوں میں بھی برقرار رہے تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا نیا ٹیرف 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہے۔ یہ ان ممالک کو متاثر کرتا ہے جو امریکی در آمدات کا 99 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان کش دیسائی نے کہا کہ امریکہ اپنے جائز اختیار کا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری مشقت والے سامان کی در آمد پر پابندی نافذ نہ کرنا غیر منصفانہ ہے اور امریکی کاروبار پر بوجھ ڈالتا ہے۔

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے مقدمہ درج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’صدر ٹرمپ امریکیوں کے لیے گزر بسر کی لاگت بڑھانے پر اس قدر بضد ہیں کہ وہ ایسا کرنے کے لیے ایک کے بعد ایک قانون توڑنے کو تیار ہیں۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ بونٹا کی ریاست بھی مقدمہ کرنے والی ریاستوں میں شامل ہے۔ بونٹا نے کہا، ’’ٹیرف دراصل ٹیکس ہوتے ہیں اور امریکی عوام صدر کی ناکام اور غیر قانونی معاشی پالیسی سے ہونے والے اضافی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور نہ ہی انہیں اٹھانا چاہیے۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande