ٹرائی نے اسپیم کال اور ایس ایم ایس کے خلاف کریک ڈاؤن، تین ماہ میں 1.83 لاکھ سے زائد ٹیلی کام وسائل پر کارروائی
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ بھارتی ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران غیر مطلوب تجارتی مواصلات (یو سی سی)، یعنی اسپیم کالز اور ایس ایم ایس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 1.83 لاکھ سے
ٹرائی نے اسپیم کال اور ایس ایم ایس کے خلاف کریک ڈاؤن، تین ماہ میں 1.83 لاکھ سے زائد ٹیلی کام وسائل پر کارروائی


نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔

بھارتی ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران غیر مطلوب تجارتی مواصلات (یو سی سی)، یعنی اسپیم کالز اور ایس ایم ایس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 1.83 لاکھ سے زائد ٹیلی کام وسائل (نمبر، ایس ایم ایس اور ٹیلی فون کنکشن) پر پابندی عائد کرنے یا انہیں منقطع کرنے کا اقدام کیا ہے۔ اس مدت میں 263 بھیجنے والوں(سینڈرز) کو بلیک لسٹ کیا گیا، جبکہ 2,873 ایس ایم ایس ہیڈرز بھی بلاک کیے گئے۔

ٹرائی کی جانب سے جاری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق 30 جون 2026 تک ملک میں موبائل صارفین کی مجموعی تعداد 1.348 ارب تک پہنچ گئی۔ اپریل سے جون کے درمیان ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک پر 730.82 ارب کالیں اور 691.09 ارب ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ اسی عرصے میں غیر مطلوب تجارتی پیغامات سے متعلق 10.85 لاکھ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 5.53 لاکھ شکایات کارروائی کے قابل پائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق پہلی مرتبہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر 1,37,053 ٹیلی کام وسائل کو 15 دن کے لیے معطل کیا گیا، جبکہ بار بار خلاف ورزی کرنے پر 46,786 وسائل کو ایک سال کے لیے منقطع کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ 263 بھیجنے والوں کو بھی ایک سال کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا۔ ٹرائی کے مطابق مجموعی کالوں کے مقابلے میں یو سی سی سے متعلق شکایات کی تعداد نہایت کم رہی۔ اپریل تا جون سہ ماہی کے دوران ہر دس لاکھ کالوں پر اوسطاً تقریباً 1.5 شکایات درج ہوئیں۔

اسپیم کے خلاف کارروائی میں ٹرائی کی ڈی این ڈی (ڈو ناٹ ڈسٹرب)ایپ نے اہم کردار ادا کیا۔ 30 جون تک اس ایپ کو 33.16 لاکھ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا تھا۔ پہلی سہ ماہی میں درج ہونے والی 10.85 لاکھ شکایات میں سے 9.66 لاکھ، یعنی تقریباً 89 فیصد شکایات، ٹرائی کی ڈی این ڈی ایپ کے ذریعے موصول ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق 30 جون تک 22.4 کروڑ صارفین نے ڈی این ڈی رجسٹری میں اپنی ترجیحات درج کرائی ہیں، جو ملک کے مجموعی موبائل صارفین کا تقریباً 16 فیصد بنتا ہے۔ دوسری جانب 1.12 ارب سے زیادہ صارفین نے ابھی تک اپنی ڈی این ڈی ترجیحات درج نہیں کرائیں، جس کے باعث انہیں رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز اور بھیجنے والوں کی تشہیری کالیں اور ایس ایم ایس موصول ہو سکتے ہیں۔

ٹرائی نے بتایا کہ 140 سیریز سے آنے والی تشہیری کالیں اور 1600 سیریز سے آنے والی بینکنگ اور سرکاری خدمات سے متعلق کالیں صارفین کو ان کی شناخت کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اپریل سے جون کے دوران 140 سیریز سے 13.16 ارب تشہیری کالیں کی گئیں، جن میں سے صارفین کی ڈی این ڈی ترجیحات کے مطابق 1.48 ارب کالیں بلاک کر دی گئیں۔

اسی عرصے میں رجسٹرڈ ٹیلی مارکیٹرز کی جانب سے 248.06 ارب تجارتی ایس ایم ایس بھیجے گئے، جن میں سے 7.30 ارب ایس ایم ایس صارفین کی ڈی این ڈی ترجیحات کے مطابق بلاک کیے گئے۔ جبکہ 1600 سیریز سے بینکنگ، سرکاری خدمات اور لین دین سے متعلق 1.15 ارب سروس کالیں کی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسپیم شناختی نظام بھی مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے 22.99 ارب مشتبہ اسپیم کالوں اور 1.44 ارب مشتبہ اسپیم ایس ایم ایس کی نشاندہی کی۔ اس طرح مجموعی طور پر 24.43 ارب مشتبہ اسپیم مواصلات کی شناخت کی گئی، جس سے صارفین کو ایسے کالز اور پیغامات کے بارے میں بروقت آگاہ رہنے میں مدد ملی۔ٹرائی نے مزید بتایا کہ 23 جون سے ایسے بھیجنے والوں کو، جن پر اسپیم پیغامات بھیجنے کا شبہ ہو، انتباہی نوٹس بھیجنے کا نظام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر ایسے 2.43 لاکھ سے زائد مشتبہ بھیجنے والوں کو وارننگ جاری کی گئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande