تھانے ضلع عدالت میں 12 ستمبر کو قومی لوک عدالت کا انعقاد
دیوانی، فوجداری، بینک قرض، موٹر حادثات اور گھریلو تنازعات سمیت مختلف مقدمات باہمی رضامندی سے نمٹائے جائیں گےممبئی ، 4 اگست (ہ س) تھانے ضلع و سیشن عدالت میں 12 ستمبر 2026 کو قومی لوک عدالت کا انعقاد کیا جائے گا۔ تھانے ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کے
تھانے ضلع عدالت میں 12 ستمبر کو قومی لوک عدالت کا انعقاد


دیوانی، فوجداری، بینک قرض، موٹر حادثات اور گھریلو تنازعات سمیت مختلف مقدمات باہمی رضامندی سے نمٹائے جائیں گےممبئی ، 4 اگست (ہ س) تھانے ضلع و سیشن عدالت میں 12 ستمبر 2026 کو قومی لوک عدالت کا انعقاد کیا جائے گا۔ تھانے ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کے سکریٹری جسٹس رویندر ایس پاجنکر نے پیر کو بتایا کہ اس لوک عدالت میں مختلف نوعیت کے مقدمات باہمی رضامندی سے نمٹانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ قومی لوک عدالت میں چیک ڈش آنر کے مقدمات، بینک قرضوں کی وصولی، مزدور تنازعات، ٹیکس وصولی، بجلی اور پانی کے بلوں سے متعلق معاملات، باہمی رضامندی سے طلاق اور دیگر ازدواجی تنازعات، دیوانی مقدمات، عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات، قابلِ مصالحت فوجداری مقدمات، موٹر حادثات کے معاوضے کے دعوے، اراضی حصول کے مقدمات، بجلی کے بقایاجات، ملازمت، تنخواہ، الاؤنس اور ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق تنازعات، محصولات کے مقدمات، قبضہ حقوق، حکمِ امتناعی سے متعلق دعوے اور دیگر کئی معاملات پیش کیے جا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آر ڈی ساونت کی ہدایت پر منعقد ہونے والی اس قومی لوک عدالت میں عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے ساتھ ساتھ قبل از مقدمہ تنازعات بھی باہمی رضامندی سے نمٹائے جا سکیں گے۔جسٹس رویندر ایس پاجنکر نے تھانے ضلع عدالت اور ضلع کی تمام تحصیل عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے فریقین سے اپیل کی کہ وہ قومی لوک عدالت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنے تنازعات خوش اسلوبی سے حل کریں۔

انہوں نے بتایا کہ لوک عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا کوئی حق نہیں ہوتا اور ایک ہی فیصلے سے مقدمہ مستقل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے گواہوں، شواہد، جرح اور طویل عدالتی کارروائی سے بچا جا سکتا ہے، جبکہ فیصلہ نسبتاً کم وقت میں ہو جاتا ہے۔ چونکہ فیصلہ دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، اس لیے نہ کوئی فریق ہارتا ہے اور نہ جیتتا، بلکہ دونوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور باہمی تعلقات میں بھی تلخی پیدا نہیں ہوتی۔انہوں نے مزید کہا کہ لوک عدالت کے فیصلے پر عدالت کے ذریعے عمل درآمد بھی کرایا جا سکتا ہے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق لوک عدالت میں نمٹائے گئے مقدمات کی عدالتی فیس بھی واپس کر دی جاتی ہے۔

رویندر ایس پاجنکر نے بتایا کہ گزشتہ برس تھانے اور پالگھر اضلاع میں قومی لوک عدالت کو بہترین عوامی ردعمل ملا تھا۔ سال 2025 کے دوران تھانے اور پالگھر اضلاع میں عدالتوں میں زیر التوا ایک لاکھ 33 ہزار 463 مقدمات اور ایک لاکھ 73 ہزار 794 قبل از مقدمہ معاملات لوک عدالت کے ذریعے نمٹائے گئے، جبکہ متعلقہ فریقین کو کروڑوں روپے کا معاوضہ بھی ملا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande