
نئی دہلی، 04 اگست (ہ س)۔جنوب مغربی ضلع پولیس کے سائبر تھانہ نے ایمیزون پروموشنل ٹاسک اورفرضی کریپٹو کرنسی ٹریڈنگ کے نام پر لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے والے ایک منظم بین ریاستی سائبر گروہ کا پردہ فاش کیا ہے ۔گروہ نے دہلی کے ایک رہائشی کو آن لائن بھاری منافع اور کمیشن دینے کا وعدہ کرکے 4.29 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا تھا۔ اس کیس کی تحقیقات کے بعد پولیس نے راجستھان اور مدھیہ پردیش میں چھاپے مارے اور گینگ کے چھ سرگرم ارکان کو گرفتار کیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزمین نے دھوکہ دہی کے لیے میول بینک اکاو¿نٹس، فرضی بینکنگ کریڈینشیل اور اے ٹی ایم کے ذریعے کیش نکالنے کا ایک مکمل نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔
جنوب مغربی ضلع کے ڈپٹی کمشنر پولیس امت گوئل نے منگل کو بتایا کہ گرفتار ملزمان کی شناخت راجستھان کے جے پور کے کھاپریا ، کالاڈیرا کے رہائشی28 سالہ سریش کمار یادو،جے پور دیہات کے سامودرہائشی 36سالہ پورن مل یادو، مدھیہ پردیش کے اندور کے آزاد نگر کے رہائشی 22 سالہ عرشان محمد،23سالہ غفران قریشی، اندورکے مہو کے رہائشی 19 سالہ ابھیجیت پاٹیدار اور 19 سالہ آرین راٹھور کے طور پر کی گئی ہے ۔
پولیس کے مطابق سریش کمار یادو نے گینگ کے لئے میول کھاتادستیاب کراتا تھا۔ پورن مل یادو بینک کھاتوں اور سم کارڈوں کو ترتیب دے کر پورے نیٹ ورک میں تال میل بنانے کا کام کرتا تھا۔ عرشان اور غفران کی ذمہ داری اے ٹی ایم سے فراڈ شدہ رقوم نکالنے کی تھی۔ ابھیجیت پاٹیدار نے گینگ کو اپنا بینک اکاؤنٹ فراہم کیا تھا، جب کہ آرین راٹھور نے گینگ کے دیگر ممبران میں اکاؤنٹ تقسیم کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔
پولیس کے مطابق، متاثرہ کو سب سے پہلے ایک واٹس ایپ گروپ سے جوڑا گیا۔ گروپ کے جعلسازوں نے خود کو ایمیزون سے وابستہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کمپنی کے نمائندے بتائے ۔ انہوں نے اسے آن لائن پروموشنل ٹاسک مکمل کرنے کے لیے پرکشش کمیشن کا لالچ دیا۔ ابتدائی طور پر، شکار کو مکمل کرنے کے لئے چھوٹے کام دیئے گئے اور پھر کچھ رقم واپس کر دی گئی، اس طرح اس کا اعتماد حاصل کر لیا گیا۔
اس کے بعد متاثرہ شخص کو ٹیلی گرام گروپ میں شامل کیا گیا، جہاں اسے بار بار بڑی سرمایہ کاری کا لالچ دیا گیا۔ جعلسازوں نے کوائن بیس کے نام پر ایک فرضی کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم دکھایا گیا، جس میں نقلی منافع اور کمائی میں اضافہ دکھایا جاتا رہا۔ اس دھوکے میں آکر متاثرہ نے کل 4.29 لاکھ روپے مختلف یو پی آئی آئی ڈی اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے۔
جب متاثرہ نے اپنی سرمایہ کاری واپس لینے کی کوشش کی تو دھوکہ بازوں نے کا تجارتی اکاؤنٹ فریز ہونے کا بہانہ بنا دیا۔اس کے بعد انہوں نے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اکاؤنٹ ایکٹیویشن، نکلوانے کے پروسیسنگ چارجز اور دیگر فیسوں کے نام پر مزید رقم جمع کرے۔ متاثرہ کو تب احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے اور اس نے نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی ) میں شکایت درج کرائی۔ شکایت کی بنیاد پر سائبر تھانہ ، جنوب مغربی ضلعمیں ای-ایف آئی آر نمبر 281/26 درج کی گئی اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
کیس کی تحقیقات کے لیے سائبر پولیس اسٹیشن کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ ٹیم نے بینک اکاؤنٹس، یو پی آئی ٹرانزیکشنز، کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آر)، اے ٹی ایم سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ مالیاتی لین دین کی تحقیقات کے دوران، پولیس نے ایک بینک اکاؤنٹ کا پتہ لگایا جہاں دھوکہ دہی سے رقم جمع کی گئی تھی۔ یہ اکاو¿نٹ جے پور کے رہنے والے سریش کمار یادو کے نام پر تھا۔
تکنیکی نگرانی اور مقامی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے سریش کو گرفتار کرلیا ۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس نے انکشاف کیا کہ اس نے کمیشن کے بدلے اپنے بینک اکاو¿نٹ کی تفصیلات، بینکنگ کریڈینشیل اور سم کارڈ پورن مل یادو کو سونپے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے پورن مل یادو کو جے پور رورل سے بھی گرفتار کر لیا۔
تفتیش کے دوران، پولیس کو پتہ چلا کہ دھوکہ دہی سے رقم کا ایک حصہ اندور، مدھیہ پردیش میں ایک اے ٹی ایم سے نکالا گیا تھا۔ اے ٹی ایم سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کے تجزیے سے عرشان محمد اور غفران قریشی کی شناخت ہوئی۔ انہیں اندور میں گرفتار کیا گیا۔ ان کے قبضے سے موبائل فون اور سائبر فراڈ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے ہیں۔
مزید تفتیش کے بعد پولیس نے ابھیجیت پاٹیدار اور آرین راٹھور کو بھی گرفتار کرلیا۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ابھیجیت نے کمیشن کے بدلے آرین کو اپنا بینک اکاؤنٹ فراہم کیا تھا۔ یہ اکاؤنٹ بعد میں غفران اور عرشان کو منتقل کر دیا گیا، جنہوں نے اسے سائبر فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم جمع کرنے کے لیے استعمال کیا۔
گروہ میں مختلف ذمہ داریاں تقسیم کی گئی تھیں
پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ تمام چھ ملزمان ایک منظم، بین ریاستی سائبر فراڈ سنڈیکیٹ کے سرگرم رکن تھے۔ کچھ میول بینک اکاؤنٹس فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے، کچھ بینکنگ کریڈینشیل اور سم کارڈز کا بندوبست کرنے کے لیے، جب کہ دیگر اے ٹی ایم سے نقد رقم نکالنے اور دھوکہ دہی کی رقم کو نیٹ ورک میں تقسیم کرتے تھے ۔ اس طرح یہ گروہ منظم سائبر فراڈ کر رہا تھا۔
پولیس نے ملزم سے چھ موبائل فون برآمد کیے جن میں سائبر فراڈ سے متعلق چیٹس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد موجود تھے۔ اس کے علاوہ اندور کے اے ٹی ایم سے پیسے نکالتے وقت عرشان اور غفران کے پہننے والے کپڑے بھی ضبط کر لیے گئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد