
چنڈی گڑھ، 4 اگست (ہ س)۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کانگریس اور عام آدمی پارٹی پر نوجوانوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کو نظر انداز کرکے صرف ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو پنجاب میں بھرتی امتحانات اور پیپر لیک کے معاملات پر عوام کے سامنے جواب دینا چاہیے۔
منگل کے روز ہریانہ نواس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ووٹ بینک کی سیاست کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جن چرنجیت سنگھ چنی نے مشکل حالات میں پنجاب کانگریس کا ساتھ دیا، آج انہیں ہی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس نے دلتوں اور محروم طبقات کی توہین کی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
وزیر اعلیٰ نے نیٹ امتحان کے پیپر لیک معاملے میں مرکزی حکومت کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور انڈیا اتحاد نے ہمیشہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پوری زندگی ملک کے ہر طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہی ہے۔ وزیر اعظم مسلسل عوام کی خدمت میں مصروف ہیں اور نوجوانوں کے مستقبل کا تحفظ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت نے سخت قوانین بنائے، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی اور بھرتی کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا۔
نائب سنگھ سینی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے پیپر لیک کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا اور واضح پیغام دیا کہ ملک کے کسی بھی نوجوان کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔پنجاب اسمبلی میں پیپر لیک کے معاملے پر منظور کی گئی مذمتی قرارداد سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا پنجاب حکومت نے اپنے صوبے میں فارمیسی امتحان کے پیپر لیک کے معاملے پر بھی کوئی مذمتی قرارداد منظور کی ہے؟
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ بھرتی امتحانات کے نتائج میں جن ناموں والے امیدواروں کی کامیابی سامنے آئی ہے، وہ خود وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ دھوکہ دہی کی عکاسی کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں سے متعلق مسائل پر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا نے کہا تھا کہ اگر پنجاب میں پیپر لیک کا واقعہ پیش آیا تو ریاست کے وزیر تعلیم سے استعفیٰ لیا جائے گا، لیکن اب ایسے واقعات پر ان کی خاموشی ان کے قول و فعل کے فرق کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی کو سب سے پہلے یہ بتانا چاہیے کہ کانگریس نے اپنے دورِ حکومت میں نوجوانوں کے لیے کیا اقدامات کیے تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan