ایران کے ساتھ بات چیت کے درمیان عُمان میں مال بردار جہاز پر حملہ
مسقط/تہران/واشنگٹن، 4 اگست (ہ س)۔ ایران میں آبنائے ہرمز پر اس سال 28 فروری سے پھیلی کشیدگی نے پوری دنیا کی نیند اڑا دی ہے۔ امریکی اور ایرانی فوج کے اس تصادم نے پورے مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) کو متاثر کیا ہے۔ اس وقت ایران کی عُمان کے ساتھ آبنائے ہر
یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی ’ایکس‘ پوسٹ


مسقط/تہران/واشنگٹن، 4 اگست (ہ س)۔ ایران میں آبنائے ہرمز پر اس سال 28 فروری سے پھیلی کشیدگی نے پوری دنیا کی نیند اڑا دی ہے۔ امریکی اور ایرانی فوج کے اس تصادم نے پورے مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) کو متاثر کیا ہے۔ اس وقت ایران کی عُمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملہ پر بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن عمان کے پاس ایک مال بردار جہاز پر ہوئے تازہ حملے سے بات چیت میں رکاوٹ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتباہ دیا ہے کہ ایران کے لیے شرائط ماننے کا یہ آخری موقع ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ اسے دھمکی کی پروا نہیں۔ اس کی فوج حملے کی صورتحال کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری تجارت سے متعلق برطانوی ادارے ، یوکے ایم ٹی او آپریشنز سینٹر، نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں عُمان کے پاس مال بردار جہاز پر حملہ کی اطلاع دی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ عمان کے خصب سے 20 ناٹیکل میل (37 کلومیٹر) شمال-مشرق میں ایک مال بردار جہاز پر کسی نامعلوم شے سے حملہ ہوا ہے۔ حکام اس حادثے کی جانچ کر رہے ہیں۔ سینٹر نے علاقے میں موجود جہازوں کو احتیاط سے چلنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا ہے۔

ایران نے پہلی بار عوامی طور پر تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کو لے کر عمان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کے دعوے سے انکار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں امن لوٹے، اس کے لیے قطر اور پاکستان سمیت علاقائی ثالث پسِ پردہ سرگرم ہیں۔ ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو اعلان کیا کہ عمان کے ساتھ بات چیت جہازوں کے لیے ایک عارضی راستہ بنانے پر مرکوز ہے۔ اگر بات چیت کامیاب ہوتی ہے تو اس آبی گزرگاہ میں ایرانی اور عمانی دونوں راستوں کو ملا دیا جائے گا۔ ثالثوں کا کہنا ہے کہ یہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد بڑھانے کی سمت میں پہلا قدم ہو سکتا ہے۔

ایران نے اس سفارتی پیش رفت کے درمیان کہا کہ اسے امریکی دھمکی کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ملک کی فوجی صلاحیت برقرار ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ اس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سیکورٹی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امن کوششوں کے درمیان ٹرمپ نے ایران پر امریکہ کے پہلے سے طے شدہ ’بڑے‘ حملے کے منصوبے کی تصدیق کی، لیکن کہا کہ انہوں نے صبر و ضبط سے کام لینا بہتر سمجھا۔

صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کا حملہ 28 فروری سے بڑا ہوتا۔ خلیجی ممالک کی گزارش کے بعد انہوں نے صبر سے کام لینے کا فیصلہ کیا اور حملے کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔ اگر یہ حملہ ہوتا تو ایران کے اندر ہزاروں لوگوں کی جان جاتی۔ انہوں نے دہرایا کہ اب شرائط ماننا ایرانی حکومت پر منحصر ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس یہ آخری موقع ہے۔ اگر ایران جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نہیں روکتا اور آبنائے ہرمز پر اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو انجام بہت برا ہو گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande