
جموں, 4 اگست (ہ س): جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے 2016 کے نگروٹہ فوجی کیمپ دہشت گرد حملہ کیس کے ملزم سید منیر الحسن قادری کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی نوعیت، الزامات کی سنگینی، دستیاب ابتدائی شواہد اور اہم گواہوں پر اثر انداز ہونے کے خدشے کے پیش نظر اس مرحلے پر ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
خصوصی جج این آئی اے مقدمات پریم ساگر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ابھی مقدمے کے کئی اہم گواہوں کے بیانات باقی ہیں، اس لیے ملزم کی رہائی عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ مقدمہ 29 نومبر 2016 کو نگروٹہ کے قریب فوجی کیمپ پر ہوئے دہشت گرد حملے سے متعلق ہے، جس میں سات فوجی اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق حملہ کالعدم تنظیم جیشِ محمد سے وابستہ تین پاکستانی دہشت گردوں نے کیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق ملزم سید منیر الحسن قادری نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے، نقل و حمل، مواصلاتی آلات، اسلحہ اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ سرحد پار موجود ہینڈلرز سے رابطہ رکھنے اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں بھی کردار ادا کیا۔ تاہم ان الزامات کا فیصلہ مقدمے کی مکمل سماعت کے بعد ہی ہوگا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ شریک ملزم طارق احمد ڈار وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے اور اس نے اپنے بیان میں قادری کو سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق اب تک 104 میں سے 42 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے جا چکے ہیں جبکہ متعدد اہم گواہوں کی شہادت ابھی باقی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں صرف طویل مدت تک حراست میں رہنا ضمانت دینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ چنانچہ مقدمے کی سنگینی، ابتدائی شواہد اور ریاست کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر