
سرینگر، 4 اگست(ہ س)۔بادل پھٹنے کے بعد گاندربل سب ڈویژن میں پینے کے پانی کی سپلائی کی معطلی نے بڑے پیمانے پرعوامی تنقید کوجنم دیا ہے، لوگ سوال کررہے ہیں کہ پانی کی فراہمی کی بڑی اسکیموں کی موجودگی کے باوجود ضروری خدمات میں خلل کیوں پڑا ہے۔ تنقید کا جواب دیتے ہوئے، اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئرجل شکتی گاندربل نے کہا کہ بادل پھٹنے سے پانی انتہائی گندہ ہو گیا ہے، جس سے یہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پانی کی فراہمی کے نتیجے میں کیچڑ والا پانی گھروں تک پہنچ جاتا، جس سے عوامی شکایات پیدا ہوتیں۔ مذکورہ افسر نے کہا، آلودہ پانی کی فراہمی سے بچنے کے لیے، محکمے نے پانی کی سپلائی کو عارضی طورپرمعطل کردیا۔ تاہم ان کا جواب بہت سے رہائشیوں کو مطمئن کرنے میں ناکام رہاہے، جنہوں نے دلیل دی کہ محکمہ کے پاس مناسب ہنگامی اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ خراب موسم کے دوران پینے کے پانی تک بلا تعطل رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔جب گاندربل میں پانی کی فراہمی کی اتنی بڑی اسکیمیں ہیں تو ہر بارش کے بعد سپلائی کیوں معطل کردی جاتی ہے؟ جب بھی بارش ہوتی ہے تو نلکے خشک ہوجاتے ہیں تو ان اسکیموں کا کیا مقصد ہے؟ اگر ایک ہی بادل پھٹنے کے بعد یہ سسٹم فیل ہوجاتا ہے، تویہ حقیقی ایمرجنسی میں کیسے کام کرے گا؟ 2014 کے تباہ کن سیلاب کے دوران بھی پینے کا پانی بلا تعطل جاری رہا، آج لوگوں کو پانی نہیں مل رہا ہے۔مکینوں نے محکمہ جل شکتی پرزور دیا کہ وہ اپنے ہنگامی ردعمل کو مضبوط کرے، زیادہ کیچڑ بھرےوالے پانی کی سپلائی کے دوران صلاحیت کو بڑھایا جائے، اور جب بھی سپلائی میں خلل ناگزیر ہو جائے توبروقت عوام کو مطلع کیا جائے، یہ کہتے ہوئے کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی ایک ضروری خدمت ہے جس میں بار بار رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir