
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ روبوٹکس اور انٹیلی جنٹ آٹومیشن کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ایجیس ٹیکنالوجیز نے 23.71 کروڑ روپے کے ابتدائی عوامی اجرا (آئی پی او) کو آج سرمایہ کاروں کے لیے سبسکرپشن کے لیے کھول دیا ہے۔ اس آئی پی او میں 6 اگست تک بولی لگائی جا سکے گی۔ ایشو بند ہونے کے بعد 7 اگست کو شیئرز کی الاٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ 10 اگست کو الاٹ شدہ شیئرز سرمایہ کاروں کے ڈی میٹ اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئرز 11 اگست کو بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر لسٹ ہونے کا امکان ہے۔آئی پی او کے آغاز کے بعد دوپہر ڈیڑھ بجے تک اسے تقریباً 20 فیصد سبسکرپشن حاصل ہو چکی تھی۔
اس آئی پی او کے لیے فی شیئر قیمت کا بینڈ 100 سے 105 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایک لاٹ میں 1,200 شیئرز شامل ہیں۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کو کم از کم دو لاٹس، یعنی 2,400 شیئرز کے لیے درخواست دینی ہوگی، جس کے لیے تقریباً 2,52,000 روپے کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس اجرا کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 22,58,400 نئے شیئرز جاری کیے جا رہے ہیں۔شیئرز کی تقسیم کے مطابق کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز(کیو آئی بیز) کے لیے 42.72 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے 29.97 فیصد، نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز(این آئی آئیز) کے لیے 12.91 فیصد اور مارکیٹ میکر کے لیے 14.40 فیصد حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔اس اجرا کے لیے ٹرن اراؤنڈ کارپوریٹر ایڈوائزرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ منیجر، اسکائی لائن فنانشل سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار اور پربھات فنانشل سروسز لمیٹڈ کو مارکیٹ میکر مقرر کیا گیا ہے۔کمپنی کی مالی صورتحال کے حوالے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا(سیبی) کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس(ڈی آر ایچ پی) کے مطابق ایجیس ٹیکنالوجیز کی مالی کارکردگی مسلسل بہتر ہوئی ہے۔
مالی سال 2023-24 میں کمپنی کا خالص منافع 93 لاکھ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 1.39 کروڑ روپے اور 2025-26 میں مزید بڑھ کر 4.02 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اسی عرصے میں کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 15.28 کروڑ روپے تھی، جو 2024-25 میں بڑھ کر 21.90 کروڑ روپے اور 2025-26 میں 41.22 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔اگرچہ کمپنی کی آمدنی اور منافع میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم قرض کا بوجھ بھی بڑھا ہے۔ 2023-24 کے اختتام پر کمپنی پر 4.16 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو 2024-25 میں معمولی کم ہو کر 4.10 کروڑ روپے رہ گیا، لیکن 2025-26 میں یہ بڑھ کر 11.93 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ 2023-24 کے اختتام پر یہ 5.82 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں کم ہو کر 5.30 کروڑ روپے رہ گیا، تاہم 2025-26 میں دوبارہ بڑھ کر 9.28 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan