
بھوپال، 04 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں فی الحال مانسون کی رفتار دھیمی پڑ گئی ہے۔ ریاست میں سرگرم موسمی نظاموں کا اثر کمزور ہونے کے باعث پیر کو زیادہ تر علاقوں میں صرف بادل اور ہلکی بونداباندی دیکھنے کو ملی۔ 4 اور 5 اگست تک یہی صورتحال برقرار رہے گی، جبکہ 6 اگست سے ویسٹرن ڈسٹربنس کے اثر سے کئی اضلاع میں ایک بار پھر شدید بارش کا دور شروع ہو سکتا ہے۔
ریاست میں گزشتہ چار دنوں سے کہیں بھی تیز بارش نہیں ہوئی ہے۔ اس کا اثر موسمی اعداد و شمار پر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اب تک مدھیہ پردیش میں اوسطاً 15.9 انچ (404.2 ملی میٹر) بارش ہوئی ہے، جبکہ اس وقت تک 19 انچ (482 ملی میٹر) بارش ہو جانی چاہیے تھی۔ یعنی ریاست میں معمول سے تقریباً 16 فیصد کم بارش درج کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، جبل پور، شہڈول، ریوا اور ساگر ڈویژن سمیت مشرقی مدھیہ پردیش میں معمول سے 20 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔ اس علاقے کا کوئی بھی ضلع معمول کی بارش کے اعداد و شمار تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ انوپ پور، بالاگھاٹ، چھترپور، چھندواڑہ، دموہ، ڈنڈوری، جبل پور، کٹنی، میہر، منڈلا، مئوگنج، نرسنگھ پور، نیواڑی، پانڈھرنا، پنا، ریوا، ساگر، ستنا، سیونی، شہڈول، سیدھی، سنگرولی، ٹیکم گڑھ اور امریا میں معمول سے 1 سے 42 فیصد تک کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
ریاست کے مغربی حصے میں بھی بارش معمول سے کم رہی ہے۔ بھوپال، اندور، اجین، نربدا پورم اور گوالیار-چنبل ڈویژن میں اوسطاً 11 فیصد کم بارش درج کی گئی ہے۔ آگر-مالوہ، علی راج پور، اشوک نگر، بیتول، بھوپال، دتیا، دھار، گنا، گوالیار، ہردا، جھابوا، مرینا، مندسور، نربدا پورم، نیمچ، رائسین، راج گڑھ، رتلام، شاجاپور، شیوپور، شیوپوری، اجین اور ودیشا ایسے اضلاع ہیں، جہاں معمول سے کم بارش ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بڑوانی، بھنڈ، برہان پور، دیواس، اندور، کھنڈوا اور کھرگون ایسے اضلاع ہیں، جہاں اب تک معمول سے زیادہ بارش درج کی گئی ہے۔
ریاست کے اوپر اس وقت دو سائیکلونِک سرکولیشن اور ایک مانسون ٹرف سرگرم ہیں، لیکن ان کا اثر کمزور بنا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر مقامات پر صرف ہلکی بارش یا بادل چھائے رہنے کی صورتحال ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 6 اگست سے ویسٹرن ڈسٹربنس سرگرم ہونے کے بعد مانسون پھر زور پکڑ سکتا ہے اور کئی علاقوں میں تیز بارش ہونے کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن