
نئی دہلی، 4 اگست (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (آپ) کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ای-20 معاملے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت عوامی تحفظات کو نظر انداز کر رہی ہے اور امریکہ کے دباو¿ پر ای 20 پالیسی پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
منگل کو پارٹی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم کو ای -20 کی مخالفت کرنے والی 233,238 دستخطوں والی عرضداشت پیش کرنے کے لیے ملاقات کی درخواست کی گئی تھی، لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج جب سبھی درخواستیں لے کر وزیراعظم کی رہائش گاہ پہنچے تو انہیں وہاں بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ای -20 گاڑیوں کے مائلیج کو کم کرتا ہے اور ربڑ کے انجن کے کچھ اجزا کو متاثر کر سکتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اس پالیسی کو زبردستی کیوں نافذ کر رہی ہے۔
کیجریوال نے الزام لگایا کہ ہندوستان کو امریکہ کے دباو¿ میں ایتھنول خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکی دباو¿ کے سامنے جھکنے کے بجائے قومی مفاد میں فیصلہ کرے اور ای 20پالیسی واپس لے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ای 20 واپس لینے کی قرارداد منظور کی ہے۔ اب، گوا، گجرات اور جموں و کشمیر میں پارٹی کے قانون ساز بھی ای 20 کو واپس لینے کے لیے قراردادیں پیش کریں گے۔
کیجریوال نے اعلان کیا کہ اس مسئلہ پر اب ایک زبردست عوامی تحریک چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام ای -20 سے راحت چاہتے ہیں تو انہیں سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ موجودہ ماحول میں حکومت کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہیں ہے، لیکن عوام کو ای -20 پالیسی کو ان پر مسلط ہونے سے روکنے کے لیے اپنے حقوق کے لیے لڑنا چاہیے۔
کیجریوال نے الزام لگایا کہ حکومت غیر ملکی کرنسی کی بچت اور کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے اپنے دعووں کے برعکس امریکہ سے ایتھنول درآمد کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد