جموں و کشمیر اور لداخ کے برفباری سے متاثرہ علاقوں میں یکم ستمبر سے مردم شماری کاعمل شروع ہو گا
جموں, 04 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے برفباری سے متاثرہ اور دشوار گزار علاقوں میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ یکم ستمبر سے شروع ہوگا، جبکہ شہریوں کو 17 سے 31 اگست تک خود اندراج (سیلف اینیومریشن) کی سہولت فراہم کی جائے گی۔سرکاری حکام کے مطابق ب
Jk


جموں, 04 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر اور لداخ کے برفباری سے متاثرہ اور دشوار گزار علاقوں میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ یکم ستمبر سے شروع ہوگا، جبکہ شہریوں کو 17 سے 31 اگست تک خود اندراج (سیلف اینیومریشن) کی سہولت فراہم کی جائے گی۔سرکاری حکام کے مطابق برفباری والے علاقوں کی جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ خصوصی انتظام کیا گیا ہے تاکہ سردیوں میں رابطہ منقطع ہونے سے قبل مردم شماری کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ خود اندراج کی سہولت کے تحت خاندان کا سربراہ یا کوئی بھی بالغ فرد سرکاری پورٹل پر اپنے خاندان کے تمام افراد کی معلومات آن لائن درج کر سکے گا۔ یکم ستمبر سے مردم شماری کا عملہ گھر گھر جا کر درج شدہ معلومات کی تصدیق کرے گا، جبکہ جن خاندانوں نے آن لائن اندراج نہیں کیا ہوگا، ان کی تفصیلات عملہ خود جمع کرے گا۔

اس خصوصی مرحلے میں کشمیر ڈویژن کے برفباری والے علاقوں کے علاوہ جموں ڈویژن کے کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، راجوری اور پونچھ اضلاع کے دور افتادہ علاقے شامل کیے گئے ہیں۔ لداخ کے بیشتر علاقے بھی اسی مرحلے میں مردم شماری کے دائرے میں آئیں گے۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ درست معلومات فراہم کریں اور خود اندراج کی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار ترقیاتی منصوبہ بندی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ شہریوں کی فراہم کردہ تمام معلومات مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے ۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande