
جموں و کشمیر اسمبلی نے غذائی اشیا میں ملاوٹ کے خلاف سخت موقف اختیار کیا
جموں، 04 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی عرضداشت کمیٹی نے غذائی اشیا میں ملاوٹ کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مقررہ وقت میں مؤثر کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اسمبلی سکریٹریٹ میں پیرزادہ فاروق احمد شاہ کی صدارت میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے دودھ، گوشت، مچھلی، سبزیوں، مصالحہ جات اور ڈبہ بند غذائی اشیا میں ملاوٹ سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین میر محمد فیاض، شیخ احسان احمد پردیسی، جاوید اقبال اور شگن پریہار بھی موجود تھے۔
کمیٹی کے چیئرمین پیرزادہ فاروق احمد شاہ نے کہا کہ کسی بھی شہری کو ملاوٹ شدہ خوراک استعمال کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو باقاعدہ مارکیٹ معائنہ، عوامی بیداری مہم اور فوڈ بزنس آپریٹروں، فوڈ ہینڈلرز اور اسٹریٹ وینڈرز کی تربیت کے پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں بغیر مستند طبی نسخے کے میڈیکل اسٹورز پر اینٹی بایوٹک ادویات کی فروخت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر خالد جہانگیر نے اجلاس کو بتایا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران محکمہ نے 21,120 معائنے کیے جبکہ 10,444 غذائی نمونے جانچ کے لیے حاصل کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں اب تک 5,221 معائنے کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل فوڈ ٹیسٹنگ وین کے ذریعے اب تک 25,003 نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں شری امرناتھ یاترا 2026 کے دوران حاصل کیے گئے 4,178 نمونے بھی شامل ہیں۔
خوراک میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے ضلع، تحصیل اور بلاک سطح پر مشترکہ انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پھل، دودھ، خوردنی تیل، گھی، شہد اور پیک شدہ پینے کے پانی کی خصوصی جانچ کر رہی ہیں۔اجلاس میں دیگر انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر