جموں و کشمیر میں رواں برس بادل پھٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آئے
جموں, 04 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں رواں برس اب تک 35 سے زائد بادل پھٹنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں مکانات، سڑکیں، پل اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم
جموں و کشمیر میں رواں برس بادل پھٹنے کے 35 سے زائد واقعات پیش آئے


جموں, 04 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں رواں برس اب تک 35 سے زائد بادل پھٹنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں مکانات، سڑکیں، پل اور دیگر عوامی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے جولائی کے وسط تک 22 بادل پھٹنے کے واقعات درج کیے گئے تھے، تاہم جولائی کے دوسرے نصف اور اگست کے آغاز میں مسلسل موسلا دھار بارشوں کے باعث مزید کئی مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 35 سے تجاوز کر گئی۔

حکام کے مطابق زیادہ تر اموات بادل پھٹنے، اچانک آنے والے سیلاب اور بارش سے پیدا ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہوئیں۔ جموں ڈویژن ان قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر رہا۔پونچھ، راجوری، کٹھوعہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ ان اضلاع میں شامل ہیں جہاں بار بار پیش آنے والی موسمی آفات نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ اسی طرح کشمیر ڈویژن کے شوپیاں اور کپواڑہ اضلاع میں بھی حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد کلاؤڈ برسٹ اور فلیش فلڈ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

قدرتی آفات کے باعث متعدد رہائشی مکانات، سڑکیں، پل، زرعی اراضی اور دیگر عوامی املاک تباہ ہوئیں، جبکہ کئی دور افتادہ علاقوں کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔

ادھر حالیہ بارش نے ایک بار پھر پہاڑی علاقوں کی موسمی آفات کے حوالے سے خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ مختلف متاثرہ اضلاع میں ریسکیو، امدادی اور بحالی کا کام جاری ہے، جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے موسم سے متعلق جاری ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande