مدارسِ اسلامیہ کے خلاف نائب وزیر اعلیٰ اتر پردیش کا بیان افسوسناک، تاریخ اور دستورِ ہند کے منافی: قاری سید عبداللہ
علی گڑھ, 04 اگست (ہ س)۔ جمعیۃ علماء ضلع علی گڑھ کے صدر قاری سید عبداللہ نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی جانب سے مدارسِ اسلامیہ کے متعلق دیے گئے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد، تاریخی حقائق ک
قاری سید عبداللہ


علی گڑھ, 04 اگست (ہ س)۔ جمعیۃ علماء ضلع علی گڑھ کے صدر قاری سید عبداللہ نے اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی جانب سے مدارسِ اسلامیہ کے متعلق دیے گئے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد، تاریخی حقائق کے منافی اور دستورِ ہند کی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں قاری سید عبداللہ نے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش نہ صرف لاکھوں علماء، اساتذہ اور طلبہ کی کردار کشی ہے بلکہ ہندوستان کی اس روشن تاریخ سے بھی انکار ہے جس میں انہی مدارس کے علماء اور فضلاء نے ملک کی آزادی، قومی خودمختاری اور سماجی اصلاح کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ ہمیشہ دین، اخلاق، کردار سازی، انسان دوستی، رواداری، بھائی چارے اور خدمتِ خلق کے مراکز رہے ہیں۔ ان اداروں نے ہر دور میں ایسے باکردار، قانون پسند اور محبِ وطن افراد تیار کیے جنہوں نے ملک و قوم کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا۔

قاری سید عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حضرت سید احمد شہیدؒ کی ملی و دینی جدوجہد، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی قیادت، 1857ء کی جنگِ آزادی میں حضرت حافظ ضامن شہیدؒ کی قربانی، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی مالٹا کی اسیری، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا کفایت اللہ دہلویؒ، حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ اور ہزاروں علماء کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں۔ تحریکِ ریشمی رومال، شاملی، تھانہ بھون اور دیوبند کی تحریکات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ مدارسِ اسلامیہ نے ہمیشہ آزادیٔ وطن، قومی اتحاد اور عوامی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دستورِ ہند ہر شہری کو مذہبی آزادی اور اپنی تہذیب و تعلیمی اداروں کے تحفظ کا بنیادی حق دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25 مذہبی آزادی، آرٹیکل 29 ثقافتی و تعلیمی حقوق کے تحفظ اور آرٹیکل 30 اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کی مکمل ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ ایسے میں مدارس کے خلاف اس نوعیت کے عمومی اور اشتعال انگیز بیانات نہ صرف آئینی اقدار بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کے بھی خلاف ہیں۔

قاری سید عبداللہ نے کہا کہ ایک ذمہ دار آئینی عہدے پر فائز شخص سے اس قسم کے غیر محتاط بیانات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیان کو واپس لیں، عوام سے معذرت کریں اور مستقبل میں ایسے بیانات سے گریز کریں جو ملک کے امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہوں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ مدارسِ اسلامیہ ملک کے وفادار دینی و تعلیمی ادارے ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دستورِ ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے قومی یکجہتی، اخلاقی تعمیر، انسانیت کی خدمت اور وطن کی ترقی و سالمیت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande