
نئی دہلی، 4 اگست(ہ س)۔ کاروں، برقی گاڑیوں اور دیگر صنعتوں کے لیے ایلومینیم کے پرزے بنانے والی کمپنی پوجا پریسیزن انجینئرنگ لمیٹڈ کے حصص نے آج زبردست پریمیم کے ساتھ شیئربازار میں انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کار وں کوخوش کردیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 301 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر56.15 فیصد پریمیم کے ساتھ 470 روپے کی سطح پر درج ہوا۔لسٹنگ کے بعد، فروخت کے دباو کی وجہ سے یہ حصص 451.10روپے کی سطح پر گر گئے۔ تاہم، خریداری جلد ہی شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے اسٹاک کی پوزیشن میں بہتری آئی۔ حصص دوپہر 12.30 بجے تک تجارت کے بعد493.50 روپے کی سطح پر تجارت کر رہے تھے۔اب تک ٹریڈنگ میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص 192.50 روپے یعنی63.95 فیصد کا فائدہ اٹھالیا تھا۔ اس آئی پی او میں سرمایہ کاروں نے 400 حصص کے لاٹ میں درخواست دی تھی۔ اس طرح اب تک ہر آئی پی او سرمایہ کار کو 77,000 روپے کا فائدہ ہوا ہے۔
کمپنی کا 159.83 کروڑ روپے کا آئی پی او 28 جولائی سے 30 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 278.83 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میںاہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کے 206.46 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 463.43 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 247.58 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا اور ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 1.33 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔
اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے کل 53.10 لاکھ حصص فروخت کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او میں حصص کی فروخت سے اکٹھا ہونے والی رقم کو نئی مینوفیکچرنگ سہولت قائم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے، پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔پوجا پریسیزن انجینئرنگ لمیٹڈ کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں کیے گئے دعوے کے مطابق، اس کی مالی صحت مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ مالی سال2023تا2024 میں کمپنی کا خالص منافع 16.10 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 23.93 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع بڑھ کر 30.90 کروڑ روپے ہو گیاتھا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024میں 174.59 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 222.80 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2025تا2026میں بڑھ کر 295.20 کروڑ روپے ہو گئی۔
اس دوران کمپنی کا قرض بھی بڑھ گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 14.28 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 19.54 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس کے بعد گزشتہ مالی سال 2025تا2026کے اختتام پر کمپنی کا قرض بڑھ کر 41.16 کروڑ روپے ہو گیا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 56.28 کروڑ روپے تھی، جو کہ 2024تا2025 میں بڑھ کر 77.64 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح، کمپنی کے رزرو اور سرپلس 2025تا2026 میں بڑھ کر 118.53 کروڑ روپے ہو گئے۔
کمپنی کی مجموعی مالیت کی بات کریں تو اس دوران کمپنی نے اس محاذ پر بھی مستحکم برتری برقرار رکھی۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 64.83 کروڑ روپے تھی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 86.20 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2025تا2026 میں بڑھ کر 133.16 کروڑ روپے ہو گئی۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024میں 27.45 کروڑ روپے رہی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 39.89 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 51.78 کروڑ روپے کی سطح پرآگیاتھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی