
ریاض/غزہ، 4 اگست(ہ س)۔ غزہ سے متعلق مجوزہ امن منصوبے پر پیش رفت کے باوجود اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار کو لے کر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ غزہ امن کونسل نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کا نام نہاد’یلو لائن‘ سے انخلا اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو جائے اور اس کے زیرِ زمین سرنگی نیٹ ورک کو ختم نہ کر دیا جائے۔
کونسل کے مطابق ثالث ممالک کے سامنے حماس نے ہلکے اور بھاری ہتھیار حوالے کرنے اور اپنی سرنگوں کو ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ اس پورے عمل کی نگرانی ایک بین الاقوامی استحکام فورس کرے گی۔ کونسل کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کی کامیابی تمام فریقوں کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی مکمل ادائیگی سے مشروط ہے، تاہم معاہدے کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کی ترتیب اب بھی متنازع بنی ہوئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے تحت حماس کو غیر مسلح کرنے کے بدلے اسرائیل مرحلہ وار غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہ ہو جائے اور اس کی تمام سرنگیں ختم نہ کر دی جائیں۔
اس کے برعکس حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہتھیاروں سے متعلق کسی بھی شق پر عمل درآمد سے پہلے ہونا چاہیے۔ حماس ’غیر مسلح ہونے‘ کی اصطلاح کو بھی قبول نہیں کرتی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا کے بعد وہ اپنے ہتھیار امریکی حمایت یافتہ فلسطینی انتظامیہ کی نگرانی میں محفوظ رکھنے پر آمادہ ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ترجمان ڈورون اسپیلمین نے کہا کہ اسرائیل نے معاہدے کے نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق اپنے تحفظات واشنگٹن کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ حماس کے حقیقی اور مکمل طور پر غیر مسلح ہونے سے پہلے کسی بھی مرحلے میں اسرائیلی انخلا نہ کیا جائے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق اس وقت اسرائیلی فوج غزہ کی تقریباً 60 سے 70 فیصد اراضی پر کنٹرول رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج نے اپنی موجودگی کم کرنے کے بجائے مزید علاقوں تک پھیلا دی ہے، حالانکہ ابتدائی جنگ بندی منصوبے کے تحت اسرائیل کو تقریباً 53 فیصد علاقے پر عارضی کنٹرول برقرار رکھنے کے بعد مرحلہ وار انخلا کرنا تھا۔
دریں اثنا، مقامی ذرائع کے مطابق ’یلو لائن‘ کے دائرہ کار میں حالیہ توسیع کے باعث غزہ شہر، دیر البلح اور خان یونس سمیت کم از کم پانچ علاقوں سے ہزاروں فلسطینی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ بھی مشرقی غزہ شہر میں اسرائیلی انخلا کے احکامات کے بعد درجنوں خاندانوں کی بے دخلی کی تصدیق کر چکی ہے۔
غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں امن منصوبے کے اعلان کے بعد سے اب تک کم از کم 1,230 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کے مطابق اسی عرصے کے دوران چار اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔غزہ امن منصوبے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کی ترتیب، اسرائیلی انخلا اور حماس کی غیر مسلحی جیسے بنیادی نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث حتمی پیش رفت تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan