
ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کے انتقال سے سماجی اور سیاسی زندگی کا ایک عظیم سایہ اٹھ گیا: وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس۔ طپدم شری اعزاز یافتہ سابق گورنر اور ممتاز ماہر تعلیم کو خراجِ عقیدت، تعلیمی و سماجی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیاممبئی ، 4 اگست (ہ س) بہار، مغربی بنگال اور تریپورہ کے سابق گورنر، پدم شری اعزاز یافتہ ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کے انتقال پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، سماجی خدمت، سیاست اور شعبۂ تعاون میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی ایک عظیم شخصیت آج ہم سے رخصت ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کے انتقال سے ملک کے تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل نے اپنے نام گیان دیو کی حقیقی معنوں میں لاج رکھی اور پوری زندگی علم کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ایک چھوٹے سے تعلیمی ادارے سے شروع ہونے والا ان کا سفر وقت کے ساتھ تقریباً دو سو تعلیمی اداروں، آٹھ جامعات اور ہزاروں طلبہ تک پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل نے طب، انجینئرنگ، فارمیسی، آرکیٹیکچر اور دیگر جدید شعبوں میں معیاری تعلیمی ادارے قائم کیے، جن کی بدولت نہ صرف ان کے اداروں بلکہ پورے مہاراشٹر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت ملی۔ ان اداروں کے ذریعے طبی سہولتوں اور صحت کی خدمات کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل دو مرتبہ رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے، تاہم ان کی اصل شناخت ایک ماہر تعلیم، سماجی کارکن اور شعبۂ تعاون کی مؤثر شخصیت کی رہی۔ انہوں نے ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل انٹرنیشنل اسٹیڈیم سمیت کئی اہم تعلیمی اور عوامی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا، جو آج بھی ان کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل تعلیم، تعاون، ثقافت، ادب اور سماجی خدمت کے مضبوط ستون تھے۔ انہوں نے پوری زندگی علم، خدمت اور انکساری کی قدروں کو فروغ دیا۔ ان کا یہ نظریہ کہ تکبر زندگی کی موت ہے اور تکبر کا خاتمہ ہی حقیقی زندگی ہے ان کی شخصیت اور طرزِ زندگی کا آئینہ دار تھا۔دیویندر فڑنویس نے کہا کہ اگرچہ ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن تعلیم کے فروغ، انکساری اور عوامی خدمت کی جو روایت وہ قائم کر گئے ہیں، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ ان کے انتقال سے ایک دور اندیش ماہر تعلیم اور عظیم رہنما کا عہد ختم ہو گیا، تاہم ان کی خدمات اور افکار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹر ڈی وائی پاٹل کے اہل خانہ، ان کے زیر انتظام تمام اداروں اور وابستگان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھگوان ان کی آتما کو سکون دے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ہندوستھان سماچار--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے