
کولکاتا، 4 اگست (ہ س)۔ جانچ ایجنسیوں نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار حمیم منڈل کے حوالے سے کئی نئی معلومات ہاتھ لگنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق ،ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ وہ وزیر اعلی شبھیندوادھیکاری سمیت کئی ریاستی وزرا کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری اسی کی تھی۔ اس سلسلے میں اس نے وزیراعلیٰ کی چنار پارک کی رہائش گاہ کے اردگرد کئی بار جاکر ریکی کی تھی۔
ایس ٹی ایف ذرائع کے مطابق، موبائل ٹاور لوکیشن کی جانچ کے بعد افسران نے حمیم کی سابقہ سرگرمیوں کی تصدیق کی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ کئی بار وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے سامنے اور اس کے آس پاس گیاتھا ہے۔ حمیم نے ابتدائی طور پر ان الزامات کی تردید کی لیکن پوچھ گچھ کے دوران اس نے وزیر اعلیٰ کی چنار پارک کی رہائش گاہ اور ان کے آنے جانے کے راستوں کی کئی بار ریکی کرنے کا اعتراف کیا۔
اس معاملے میں حمیم کے علاوہ اس کی مبینہ دوست ارپیتا سرکار اور آدتیہ سنگھ عرف راج کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان افراد کا پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور بدنام زمانہ گینگسٹر شہزاد بھٹی کے گروہ سے باقاعدہ رابطہ تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ مغربی بنگال میں دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیاں انجام دینے کی سازش رچی جارہی تھی جس میں وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری بھی ان کے نشانے پر تھے۔
پولیس کے مطابق ،ارپیتا سرکار کو مبینہ طور پر ’ہنی ٹریپ‘ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر سیاست دانوں، وزرا اور عہدیداروں کو محبت کا لالچ دے کر ان سے حساس معلومات حاصل کرتی تھی۔
ان انکشافات کے بعد وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قتل اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے ریاست میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تفتیشی ایجنسیوں کو یہ بھی شبہ ہے کہ شہزاد بھٹی کا گینگ حمیم کے علاوہ مغربی بنگال میں ایک متوازی نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد