
حیدرآباد، 04 اگست (ہ س)۔
محبوب آباد ضلع کے دانتالہ پلی منڈل کے دوناکونڈہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی دوآنگن واڑی کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شکایت درج کرانے کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچنے پرسب انسپکٹر نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور توہین آمیز رویہ اختیارکیا۔ متاثرہ خواتین کی شناخت آنگن واڑی ٹیچر آوولا منجولا اور ہیلپر وینکٹ لکشمی کے طورپرہوئی ہے۔ دونوں خواتین مبینہ طورپرایک ایسے شخص کے خلاف شکایت درج کرانے دانتالہ پلی پولیس اسٹیشن پہنچی تھیں جوسرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران انہیں ہراساں کر رہا تھا۔ خواتین کا الزام ہے کہ دانتالہ پلی ایس آئی روی کمار نے انہیں اپنے چیمبر میں بلایا اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہروں سے بھی مبینہ طور پر نازیبا اور توہین آمیز زبان میں بات کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی نے انہیں جان سے مارنے کے لیے پیٹنے کی دھمکی بھی دی۔ متاثرہ خواتین کے مطابق پولیس افسر کے مبینہ رویے سے منجولا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں اور اچانک بے ہوش ہوکر گر پڑیں۔ صورتحال دیکھتے ہوئے اہل خانہ انہیں فوری طور پر ہاسپٹل لے گئے، جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں خواتین نے ضلع کے ایس پی سے شکایت کرتے ہوئے ایس آئی روی کمار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ پولیس اسٹیشن میں شکایت لے کرآنے والی خواتین کے ساتھ بھی افسر نے احترام اورحساسیت کامظاہرہ نہیں کیا۔ متاثرہ خواتین نے تھورورسرکل انسپکٹر گنیش سے بھی رجوع کیا اور مطالبہ کیا کہ توہین کرنے والے ایس آئی کو معطل کیا جائے۔ خواتین نے کہا کہ اگرافسرکے خلاف کارروائی نہیں کی گئی توان کے پاس خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
واقعے نے پولیس اسٹیشن میں خواتین کے ساتھ پولیس کے رویے اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کارپرسوالات کھڑے کردیے ہیں۔ معاملے میں اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے تحقیقات اورمزید کارروائی متوقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق