
ممبئی ، 31 اگست (ہ س) مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا ہے کہ وِمُکت اور خانہ بدوش برادریوں کو ہمدردی نہیں بلکہ آئینی حقوق، عزت اور انصاف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان برادریوں کو ایک مستحکم اور فکر سے آزاد زندگی دینے کے لیے پابند عہد ہے اور 52 خانہ بدوش و وِمُکت برادریوں کو متحد کرکے ان کے حقوق کے لیے ملک گیر تحریک کھڑی کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایکناتھ شندے ماٹونگا میں وِمُکت دن کے موقع پر منعقد شیو سینا بھٹکے وِمُکت حق، انصاف اور ترقی کانفرنس 2026 سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کرانتی سوریہ مہاتما جیوتیبا پھولے، چھترپتی شاہو مہاراج، بھارت رتن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر اور وسنت راؤ نائک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس میں بنجارہ، مداری، بھوئی، ویدو، واسودیو، بہروپی، پاردھی، گوندھلی، وڈار، ونجاری، گوساوی، لمان، دھن گڑ، مسن جوگی اور ناتھ پنتھی سمیت مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی 52 برادریاں ایک ساتھ جمع ہوئیں۔
ایکناتھ شندے نے وزیر سنجے راٹھوڑ کی پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز قبل پربھنی میں ایک سنجے نے بھیڑ کے ذریعے اپنی طاقت دکھائی تھی اور آج ممبئی میں اس سنجے نے 52 برادریوں کو ایک جگہ لا کر طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا ڈی این ٹی سینا کے قومی صدر کی حیثیت سے سنجے راٹھوڑ پر 52 برادریوں کو متحد کرنے کی ذمہ داری ہے اور انہوں نے تانڈوں میں رہنے والے لوگوں کو منترالیہ سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برطانوی دور میں کریمنل ٹرائبس ایکٹ کے ذریعے ان محنت کش برادریوں پر پیدائشی مجرم ہونے کا داغ لگا دیا گیا تھا۔ 31 اگست 1952 کو انہیں اس داغ سے آزادی ملی، اس لیے یہ دن آزادی، خودداری اور جدوجہد کی تاریخی یاد کے طور پر اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان برادریوں کو کسی کی مہربانی نہیں چاہیے بلکہ انسان کی حیثیت سے جینے کا حق اور اپنے جائز حقوق درکار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے