
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س)۔ امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے اڈوں پر نئے حملے کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ایک بار پھر تیزی آگئی ہے۔ اس اضافے نے برینٹ کروڈ کو آج 90 ڈالر فی بیرل کے نشان سے آگے بڑھا دیاہے۔ ساتھ ہی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 86 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔آبنائے ہرمز میں ایرانی جزیرے پر امریکہ کے دو لانچرز پر حملے کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔ امریکی حملوں کے بعد ایران نے اردن میں دو امریکی اڈوں پر حملہ کیا۔اس سے مغربی ایشیا میں ایک بار پھر تناو¿ بڑھ گیا ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے اڈوں پر حملے کیے ہیں، جس کا اثر بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔
آج، برینٹ کروڈ نے 1.35 ڈالر فی بیرل اضافہ کے ساتھ89.455ڈالرفی بیرل کی سطح پر تجارت شروع کی۔ تجارت شروع ہونے کے فورا بعد اس کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح کو عبور کر گئی۔ صبح 10 بجے کے قریب، برینٹ کروڈ 90.98 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ تاہم تھوڑی دیر کے بعد اس میں بھی معمولی کمی درج کی گئی۔11:30 بجے، برینٹ کروڈ2.69ڈالر فی بیرل یعنی3.05 فیصداضافہ کے ساتھ90.79 ڈالرفی بیرل کے حساب سےتجارت کر رہا تھا۔
اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل نے آج 1.29 ڈالر فی بیرل اضافہ کے ساتھ 84.69 ڈالر فی بیرل پر تجارت شروع کی۔ شروع میں یہ مختصر طور پر گر کر 84.11ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ اس کے بعد قیمت میں اضافہ ہوا، جو جلد ہی 85.96 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔11:30 بجے، ڈبلیو ٹی آئی خام 2.33 ڈالر فی بیرل یعنی 2.79فیصداضافہ کے ساتھ85.73ڈالر فی بیرل کی سطح پر تجارت کر رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان نئے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت بڑھ سکتی ہے۔ امریکہ نے ایرانی جزیرے پر دو لانچرز پر حملہ کیا ہے اور صرف آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے اردن میں امریکی اڈے پر بھی حملہ کیا ہے، جس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ دونوں ممالک کے رویے سے یہ واضح ہے کہ مغربی ایشیا میں جلد کشیدگی میں کمی کی توقع نہیں ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو خام تیل کی قیمت میں بھی اضافے کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ہندوستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ٹی این وی فنانشل سروسز کے سی ای او تارکیشور ناتھ ویشنو کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی طویل مدت ہندوستان کے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی خسارے کا ہدف بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ہندوستانی کرنسی کو کمزور کر سکتی ہے، افراط زر میں اضافہ کر سکتی ہے اور غیر ملکی سرمائے کے اخراج میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح معیشت پر بڑھتا ہوا دباو¿ اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ حکومت کو سبسڈی، شرح سود اور روپے ڈالر کے تبادلے کی شرح پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی