تاریخ کے صفحات میں یکم ستمبر: آزاد ہند فوج کی تشکیل نے آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی
نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ میں آج کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1942 میں برطانوی حکومت سے ہندوستان کو آزاد کرانے کے مقصد سے آزاد ہند فوج، جسے انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) کے نام سے بھی جان
تاریخ کے صفحات میں یکم ستمبر: آزاد ہند فوج کی تشکیل نے آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی


نئی دہلی، یکم ستمبر (ہ س)۔ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ میں آج کا دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1942 میں برطانوی حکومت سے ہندوستان کو آزاد کرانے کے مقصد سے آزاد ہند فوج، جسے انڈین نیشنل آرمی (آئی این اے) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی تشکیل کی راہ ہموار ہوئی۔ اس مسلح تنظیم نے بیرون ملک سے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت اور توانائی فراہم کی۔

انقلابی راش بہاری بوس نے جاپان کے تعاون سے ہندوستانی فوجیوں اور شہریوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مہم کو جاپان کی جانب سے وسیع تعاون حاصل ہوا۔ فوج میں بڑی تعداد میں ایسے ہندوستانی فوجی شامل ہوئے جنہیں جنگ کے دوران جاپانی فوج نے جنگی قیدی بنا لیا تھا۔ بعد میں برما اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک میں مقیم ہندوستانی بھی اس تحریک سے وابستہ ہوگئے۔آزاد ہند فوج کی ایک خاص بات خواتین کے لیے الگ فوجی یونٹ کا قیام تھا۔ بڑی تعداد میں فوجیوں اور خواتین ارکان کی شرکت نے اس تحریک کو وسیع شکل دی۔

بعد کے برسوں میں نیتاجی سبھاش چندر بوس کی قیادت میں آزاد ہند فوج آزادی کی جدوجہد کی ایک طاقتور علامت بن کر ابھری۔ فوجیوں کی جدوجہد، قربانی اور ان کے ’’دہلی چلو‘‘ جیسے نعروں نے ملک کے عوام میں آزادی کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔

اہم واقعات

1923: گریٹ کانٹو زلزلے نے جاپان کے ٹوکیو اور یوکوہاما شہروں میں تباہی مچا دی۔

1939: جرمنی کے پولینڈ پر حملے کے ساتھ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔

1942: راش بہاری بوس نے انڈین نیشنل آرمی کی بنیاد رکھی۔

1947: ہندوستانی معیاری وقت(انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم) کو اپنایا گیا۔

1956: بھارتی جیون بیمہ کارپوریشن(ایل آئی سی) کا قیام عمل میں آیا۔

1956: ریاستوں کی تنظیم نو کے بعد تریپورہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا۔

1962: مہاراشٹر کے کولہاپور میں شیواجی یونیورسٹی قائم ہوئی۔

1964: انڈین آئل ریفائنری اور انڈین آئل کمپنی کو ضم کرکے انڈین آئل کارپوریشن تشکیل دی گئی۔

1965: پاکستانی فوج نے کشمیر میں جنگ بندی لائن عبور کی۔

1997: ادیبہ مہاشویتا دیوی اور ماحولیاتی ماہر ایم سی مہتا کو 1997 کا ریمن میگسیسے ایوارڈ دیا گیا۔

1998: وکٹر چرنومردین کو دوبارہ روس کا وزیراعظم مقرر کیا گیا۔

2005: صدام حسین نے مشروط رہائی کی امریکی پیشکش مسترد کردی۔

2008: وزیر خزانہ پی چدمبرم نے ڈی سبراؤ کو بھارتی ریزرو بینک کا 22واں گورنر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

2008: یونین بینک آف انڈیا نے اپنا لوگو تبدیل کیا۔

2009: وائس ایڈمرل نرمل کمار ورما کو بھارتی بحریہ کا سربراہ مقرر کیا گیا

2014: بہار میں نالندہ یونیورسٹی دوبارہ شروع کی گئی۔

پیدائش

1886: کے پی کیشو مینن — مالابار کے اہم کانگریسی رہنما اور سماجی مصلح

1895: چیمبائی ویدیا ناتھ بھاگوتار — معروف ہندوستانی موسیقار

1901: لکشمی نارائن اپادھیائے — معروف ماہر جغرافیہ۔

1908: کے این سنگھ — ہندوستانی سنیما کے معروف ولن اداکار

1921: مادھو منتری — ہندوستانی کرکٹر۔

1923: حبیب تنویر — معروف اسکرپٹ رائٹر، ڈراما ڈائریکٹر، شاعر اور اداکار۔

1927: راہی معصوم رضا — ہمہ جہت شخصیت کے مالک اور معروف ادیب

1930: چارلس کوریا — معروف ہندوستانی معمار اور شہری منصوبہ ساز

1931: شیواجی راؤ نلنگیکر — انڈین نیشنل کانگریس کے سیاست داں

1933: دشینت کمار — ہندی کے معروف کوی اور غزل نگار

1947: پی اے سنگما — معروف ہندوستانی سیاست داں

1949: رادھا موہن سنگھ — بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی وزیر زراعت

1952: راج کمار رنجن سنگھ — بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاست داں

1959: نندن بال — ہندوستانی ٹینس کوچ اور سابق پیشہ ور کھلاڑی

1966: سونم وانگچک — ہندوستانی انجینئر اور تعلیمی اصلاح کار

1970: پدما لکشمی — ہندوستانی اداکارہ

1973: رام کپور — ہندوستانی اداکار

1977: عامر علی — ہندوستانی ٹیلی ویژن اداکار

1982: یامنی ریڈی — ہندوستان کی معروف کلاسیکی رقاصہ

وفات

1574: گرو امر داس — سکھوں کے تیسرے گرو، جنہیں 73 سال کی عمر میں گرو مقرر کیا گیا تھا۔

1942: ویکٹا ریڈی نائیڈو — استاد، وکیل اور تمل ناڈو کے برہمن مخالف رہنما۔

2018: ترون ساگر — جین مت کے دگمبر فرقے کے معروف ہندوستانی سادھو۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande