
بھوپال، 31 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ کی سختی کے بعد مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے رہائشی علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف میونسپل کارپوریشن نے بڑے پیمانے پر سیلنگ کارروائی شروع کر دی ہے۔ پیر کو کی گئی کارروائی کے دوران صرف چار گھنٹوں میں 15 سے زائد تجارتی اداروں کو بند کرا دیا گیا۔ دوسری جانب اریرا کالونی سمیت کئی علاقوں میں تاجروں نے زبردست ہنگامہ کرتے ہوئے کارپوریشن پر چھوٹے کاروباریوں کو نشانہ بنانے اور بڑے مالز کو کارروائی سے بچانے کا الزام عائد کیا۔
رہائشی علاقوں میں جاری تجارتی سرگرمیوں کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی کارروائی پیر کی صبح 9 بجے شروع ہوئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کے تحت شروع کی گئی اس کارروائی سے شہر بھر کے تاجروں میں تشویش پھیل گئی۔ میونسپل کارپوریشن کی ٹیموں نے مختلف تھانوں کی بھاری پولیس فورس کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے صرف چار گھنٹوں میں سرو دھرم، اریرا کالونی، رچنا نگر اور خانہ گاؤں جیسے علاقوں میں 15 سے زائد اداروں کو سیل یا بند کرایا۔
کارروائی کے دوران سب سے زیادہ کشیدگی ای-3 اریرا کالونی اور آریہ سماج مندر کے قریب دیکھی گئی۔ جب کارپوریشن کا عملہ دکانیں بند کرانے پہنچا تو مقامی تاجروں نے شدید احتجاج شروع کر دیا۔ تاجروں نے انتظامیہ پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صرف چھوٹے دکانداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ بااثر افراد اور بڑے شاپنگ مالز کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی۔
10 نمبر مارکیٹ تاجر مہاسنگھ کے صدر آنند سونی نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجر سڑک پر آ گئے ہیں اور حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے وقت رہتے بھوپال کا ماسٹر پلان نافذ کیا ہوتا یا مکسڈ لینڈ یوز کی مناسب انتظام کیا ہوتا تو آج 90 فیصد کاروبار بند ہونے کے دہانے پر نہ پہنچتا۔
معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے والے درخواست گزار وویک ترپاٹھی نے بھی میونسپل کارپوریشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ ان کا الزام ہے کہ کارپوریشن محض خانہ پری کر رہی ہے اور بااثر افراد کو کارروائی سے بچا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی نامکمل اور انتخابی کارروائی کی مکمل رپورٹ 15 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھوپال کے ماسٹر پلان میں برسوں کی تاخیر موجودہ بحران کی بڑی وجہ ہے۔ دوسری جانب رہائشی علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے کالونیوں میں شور، ٹریفک جام، سماج دشمن عناصر کی آمدورفت اور اسکول جانے والے بچوں کے لیے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔انتظامیہ کی اس سخت کارروائی کے بعد اشوکا گارڈن، اودھ پوری اور لال گھاٹی جیسے علاقوں کے کاروباریوں میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے اور کئی تاجر متبادل جگہوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan