
نئی دہلی، 31 اگست (ہ س):
ہندوستانی معیشت رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی (اپریل-جون) میں اندازے سے بہتر 7.8 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں شرح نمو 6.9 فیصد رہی تھی۔ یہ شرح نمو مغربی ایشیا میں جاری بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ملکی اقتصادی سرگرمیوں کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
شماریات و پروگرام عمل درآمد کی وزارت کی جانب سے نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر سوربھ گرگ نے اپریل-جون سہ ماہی میں ملک کی اقتصادی شرح نمو 7.8 فیصد تک پہنچنے پر ردعمل ظاہر کیا۔ گرگ نے کہا، ”ہندوستانی معیشت کی مضبوطی، جو ہر سال اور ہر سہ ماہی میں نظر آ رہی ہے، کو دیکھتے ہوئے محتاط اندازے لگانا فطری ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ ہندوستانی صارفین، ہندوستانی خاندانوں، پرائیویٹ فائنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (پی ایف سی ای) اور کارپوریٹ و حکومتوں کی سرمایہ کاری نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ شرح نمو مضبوط بنی رہے۔“
قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی شرح نمو ریزرو بینک آف انڈیا کے 7 فیصد کے اندازے سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ آر بی آئی نے مالی سال 2026-27 میں ہندوستانی معیشت کی شرح نمو 6.7 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔
این ایس او کے مطابق مغربی ایشیا کے بحران کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے، مہنگائی کے دباو¿ اور عالمی طلب کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔ ایسے میں توقع سے بہتر شرح نمو اس بات کا اشارہ ہے کہ بیرونی جھٹکوں کے باوجود ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار اب تک برقرار رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار پالیسی سازوں کے لیے کچھ راحت کا باعث بنے ہیں، کیونکہ وہ اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے ساتھ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اجناس کی منڈیوں میں اتار چڑھاو¿ سے پیدا ہونے والے خطرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں مصروف ہیں۔
شماریات و پروگرام عمل درآمد کی وزارت (ایم او ایس پی آئی) کے مطابق رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مستقل قیمتوں پر حقیقی جی ڈی پی 81.36 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کی اسی سہ ماہی میں یہ 75.46 لاکھ کروڑ روپے تھی۔
وزارت نے کہا، ”عالمی چیلنجز کے باوجود ہندوستانی معیشت نے پہلی سہ ماہی میں ترقی کی رفتار برقرار رکھی ہے۔“ وہیں موجودہ قیمتوں کی بنیاد پر رواں مالی سال کی اپریل-جون سہ ماہی میں جی ڈی پی 88.27 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 80 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح موجودہ قیمتوں پر جی ڈی پی میں 10.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
این ایس او کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو گزشتہ مالی سال 2025-26 کی چوتھی سہ ماہی کی 8.6 فیصد شرح کے مقابلے میں کم رہی ہے، لیکن مغربی ایشیا کے بحران اور توانائی کی منڈیوں میں اتھل پتھل کے بعد لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں ہندوستان کی جی ڈی پی شرح نمو زیادہ رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ