
واشنگٹن،03اگست(ہ س)۔ ایران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی حکمت عملی کے تحت امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے متعدد تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کارروائی کرتے ہوئے درجنوں جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا، جبکہ بعض دیگر جہازوں کے خلاف بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید سخت کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ 2 اگست تک اس نے ایران سے متعلق پابندیوں کے نفاذ کے دوران 35 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا، دو جہازوں کو ناکارہ بنایا اور دو دیگر جہازوں پر سکیورٹی کنٹرول حاصل کر کے ان کی تلاشی لی۔سینٹ کام کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی، جس میں بحیرہ? عرب میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن کے ڈیک سے امریکی میرین کور کا ایف-35 سی لڑاکا طیارہ پرواز کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران سے متعلق جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے اعلیٰ اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر زمینی ناکہ بندی نافذ کرنے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرنا اور اس کی تجارتی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔اخبار کے مطابق اگر زمینی ناکہ بندی کے منصوبے پر عمل کیا گیا تو امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ہمسایہ ممالک پر سرحدی راستے بند کرنے یا آمد و رفت محدود کرنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالنا ہوگا، تاکہ ایران کی بیرونی تجارت متاثر ہو سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور عراق اس منصوبے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم انہیں واشنگٹن کے قریبی اتحادی نہیں سمجھا جاتا، جس کی وجہ سے ان کے مؤقف کو غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آذربائیجان، آرمینیا، افغانستان، ترکمانستان اور ترکی جیسے ممالک کو بھی خدشہ ہے کہ اگر انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے مجوزہ اقدامات کا ساتھ دیا تو ایران ان کے خلاف جوابی، حتیٰ کہ فوجی اقدامات بھی کر سکتا ہے۔ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے موجودہ فوجی حکمت عملی کے تمام دستیاب راستوں کا جائزہ لینے کے بعد زمینی ناکہ بندی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اختیارات موجود ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ ایران پر مجوزہ فوجی حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق کسی فوری سفارتی معاہدے کا امکان پیدا ہو سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اور اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے، تاہم سفارت کاری اور دباؤ کی پالیسی بیک وقت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan