
لکھنؤ، 3 اگست (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اتر پردیش حکومت نے غیر قانونی کان کنی اور معدنیات کی غیر قانونی نقل و حمل پر مؤثر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی انٹیگریٹڈ مائننگ سرویلنس سسٹم(آئی ایم ایس ایس) کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے کان کنی کے علاقوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سرکاری محصولات کے تحفظ کو بھی نئی تقویت ملی ہے۔ حکومت کے مطابق اس سخت نگرانی کے نتیجے میں محکمہ ارضیات و کان کنی کو اب تک 756 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی بھی ہوئی ہے۔
اتر پردیش کے محکمہ ارضیات و کان کنی کی سکریٹری اور ڈائریکٹر مالا سریواستو نے بتایا کہ آئی ایم ایس ایس کے تحت کان کنی کے علاقوں کی جیو فینسنگ، کیمروں سے لیس وی برج، معدنیات کی نقل و حمل کرنے والی گاڑیوں پر ریڈیو فریکوئنسی آئیڈینٹی فکیشن مائن ٹیگ، مختلف شاہراہوں پر آئی او ٹی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار چیک گیٹس نصب کیے گئے ہیں۔ ان تمام نظاموں کو لکھنؤ میں قائم ایک مرکزی کمانڈ سینٹر سے منسلک کیا گیا ہے، جہاں سے پورے صوبے میں ہونے والی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمانڈ سینٹر میں موجود ڈسیژن سپورٹ سسٹم کے ذریعے اضلاع کی جانب سے نشان زد کی گئی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف فوری طور پر ای-نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے کارروائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز، شفاف اور مؤثر ہو گئی ہے۔ریاست میں اس وقت 62 خودکار چیک گیٹس فعال ہیں جبکہ دو نئے چیک گیٹس زیرِ تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ 75 آر ایف آئی ڈی ریڈرز اور ایم-چیک ایپ کی مدد سے نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ اب تک 1.53 لاکھ سے زائد گاڑیوں پر آر ایف آئی ڈی مائن ٹیگ نصب کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے معدنیات کی نقل و حمل کی آن لائن نگرانی ممکن ہو گئی ہے۔
اتر پردیش کی کان کنی پالیسی 2017 کے تحت انٹیگریٹڈ مائننگ سرویلنس سسٹم نافذ کیا گیا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 جولائی 2026 تک آئی ایم ایس ایس کے ذریعے 2.41 لاکھ سے زائد ای-نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جن کے تحت 998 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم واجب الادا قرار دی گئی۔ ان میں سے اب تک 756 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی بھی کی جا چکی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی یہ نگرانی کا نظام نہ صرف غیر قانونی کان کنی اور معدنیات کی غیر قانونی نقل و حمل پر مؤثر کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے بلکہ ریاستی محصولات میں نمایاں اضافہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan