
جبل پور، 3 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں 2017 کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد ریاستی حکومت نے تعلیمی سال 27-2026 میں ستمبر کے مہینے میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی اطلاع دی ہے۔ حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد ہائی کورٹ نے مفاد عامہ کی عرضی کا تصفیہ کر دیا۔
ہائی کورٹ کی ہدایت کے بعد ریاست کی نو یونیورسٹیوں سے منسلک سیکڑوں کالجوں کے لاکھوں طلبہ کو طلبہ یونین کے انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ جبل پور کے رہنے والے طالب علم عدنان انصاری نے ریاست میں طویل عرصے سے زیر التوا طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے مطالبے کو لے کر مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ پیر کو قائم مقام چیف جسٹس وویک روسیا اور جسٹس پردیپ متل کی ڈویژن بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ اس دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ تعلیمی کیلنڈر کے مطابق ستمبر 2026 میں طلبہ یونین کے انتخابات کرائے جائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل ہونے والی سماعت میں ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کو طلبہ یونین کے انتخابات کی مقررہ تاریخ، تعلیمی کیلنڈر اور طلبہ یونین کی تشکیل کے لیے عملی منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ محض یقین دہانیوں کی بنیاد پر معاملے کو زیر التوا نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے بعد حکومت نے ستمبر میں انتخابات کرانے کی تجویز عدالت کے سامنے پیش کی۔
عرضی گزار کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل اکشر دیپ نے بتایا کہ 2017 کے بعد پہلے کورونا وبا اور بعد میں دیگر وجوہات کا حوالہ دے کر طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے گئے، جس کی وجہ سے طلبہ یونین کی تشکیل بھی نہیں ہو سکی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد