ایران پالیسی پر ریپبلکن صفوں میں دراڑ، ٹرمپ انتظامیہ کو شفافیت اور سخت مؤقف دونوں کا سامنا
واشنگٹن،اگست( ہ س)۔ ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی نے ریپبلکن پارٹی کے اندر مختلف ترجیحات کو نمایاں کر دیا ہے۔ پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں نے الگ الگ زاویوں سے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے ایک جانب کانگریس کو ناکافی معلومات فراہم ک
ایران پالیسی پر ریپبلکن صفوں میں دراڑ، ٹرمپ انتظامیہ کو شفافیت اور سخت مؤقف دونوں کا سامنا


واشنگٹن،اگست( ہ س)۔ ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی نے ریپبلکن پارٹی کے اندر مختلف ترجیحات کو نمایاں کر دیا ہے۔ پارٹی کے دو سینئر رہنماؤں نے الگ الگ زاویوں سے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے ایک جانب کانگریس کو ناکافی معلومات فراہم کرنے پر سوال اٹھایا، تو دوسری جانب ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں نرمی برتنے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ریپبلکن قیادت ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے حق میں متحد ہے، لیکن اس مقصد کے حصول کے طریقہ? کار پر اختلافات موجود ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کی مسلح افواج کمیٹی کے رکن اور انٹیلی جنس کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیک ٹرنر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے متعلق فوجی حکمتِ عملی اور دیگر حساس معاملات پر کانگریس کو مکمل معلومات فراہم نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس کی بریفنگز سے مطمئن نہیں ہیں اور کئی ماہ سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرنر نے کہا کہ انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مزید معلومات شیئر کر سکتی ہے، خصوصاً ایران میں جاری فوجی سرگرمیوں، یوکرین سے متعلق سکیورٹی معاملات اور امریکی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کانگریس کو اب تک ان امریکی ریاستوں کے بارے میں باضابطہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں جہاں پانی کی فراہمی کے نظام پر ہونے والے سائبر حملوں کی تحقیقات جاری ہیں اور جن کے پیچھے ایران کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تاہم ٹرنر نے واضح کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کی مجموعی ایران پالیسی کے مخالف نہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ ٹرمپ صرف جنگ سے بچنے کے لیے ایران کے ساتھ کمزور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت شدید معاشی اور فوجی دباؤ میں ہے، جس کے باعث اسے اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ٹرمپ اعلان کر چکے ہیں کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور دیگر معاملات پر فوری سفارتی پیش رفت کا موقع فراہم کیا جا سکے۔

دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر جان این کینیڈی نے ایران کے معاملے پر کہیں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ مذاکرات کے دوران تہران کی کسی بھی یقین دہانی پر بھروسہ نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ بھی ہو تو امریکہ کو اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول ایرانی قیادت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور دباؤ کی موجودہ پالیسی ہی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

کینیڈی نے مطالبہ کیا کہ سفارتی بات چیت جاری رہنے کے باوجود ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں برقرار رکھی جائیں اور اس کے جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات پر ضرورت پڑنے پر کارروائی کا آپشن بھی کھلا رکھا جائے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس ایسی مکمل انٹیلی جنس معلومات موجود نہیں جن کی بنیاد پر نئی فوجی مہم کے آغاز کی سفارش کی جا سکے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں عالمی توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات امریکہ میں مہنگائی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مائیک ٹرنر اور جان کینیڈی کے بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے اصول پر متفق ہے، تاہم ایک حلقہ کانگریس کو زیادہ بااختیار اور باخبر بنانے پر زور دے رہا ہے، جبکہ دوسرا ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ نرمی یا رعایت کو امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande