
ننگل، 3 اگست (ہ س)۔ روپ نگر ضلع کے ننگل میں واقع پریمو کیمیکلز پلانٹ میں پیر کی صبح کلورین گیس کے اخراج سے آس پاس کے علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔گیس کی تیز بو قریبی رہائشی کالونیوں اور دیہی علاقوں میں پھیل گئی جس سے لوگوں میں دہشت کا ماحول بن گیا۔
مقامی رہائشیوں نے اس واقعے کی اطلاع انتظامیہ کو دیتے ہوئے صحت پر ہونے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ ماڈرن ایونیو کالونی کے رہائشی وجے کپیلا نے بتایا کہ صبح اس کے گھر میں شدید بدبو محسوس ہوئی۔ مقامی باشندوں سے پوچھ گچھ کرنے پر، انہیں پریمو کیمیکلز یونٹ سے کلورین گیس کے اخراج کا علم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں لوگوں کے درمیان گھبراہٹ ہے اور انتظامیہ کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ یہاں رہنا محفوظ ہے یا نہیں ۔
گیس کے اخراج کا اثر صرف ننگل شہر تک محدود نہیں رہا۔ پلانٹ کے آس پاس واقع گاوں کے لوگوں نے بھی تیزکیمیکل کی بو آنے کی اطلاع دی۔پڑوسی ہماچل پردیش کے بینیوال گاو¿ں، جو صنعتی یونٹ کے قریب ہے، کے رہائشی بوبی سنگھنے بتایا کہ گیس کے اخراج کی خبر پھیلنے کے بعد گاو¿ں میں بے چینی اور خوف و ہراس کا ماحول چھا گیا۔
پریمو کیمیکلز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں کر لیا گیا ہے۔ کمپنی کے ڈپٹی جنرل منیجر اور ترجمان بھگوتی پرساد نے بتایا کہ گیس کا اخراج پلانٹ کے اندر موجود کلورین پائپ لائن میں پن لیک ہونے کی وجہ سے ہوا، جسے فوری طور پر روک دیا گیا۔
کمپنی کے مطابق کلورین گیس کے اخراج پر اب مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے اور جان یا حفاظت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اس واقعے نے آس پاس رہنے والے رہائشیوں میں صنعتی تحفظ کے بارے میں خدشات کو تازہ کر دیا ہے۔ قریبی گاوں کے رہائشیوں نے پہلے الزام لگایا تھا کہ پلانٹ سے اخراج اور گیس کے اخراج نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے اور زمینی پانی آلودہ ہو گیا ہے۔
حالانکہ،پنجاب آلودگی کنٹرول بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ گاو¿ں والوں کی طرف سے فصلوں کو نقصان پہنچانے اور زمینی آلودگی کے الزامات کی پہلے کی تحقیقات میں تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
تازہ واقعہ کے بعد مقامی لوگوں نے کمپنی اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کے دوران بروقت اور واضح معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ لوگوں میں غیر ضروری خوف و ہراس نہ پھیلے اور ایمرجنسی کی صورت میں مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد