جموں میں اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے بیداری کے باوجود مریض گردہ پیوندکاری کے منتظر
جموں, 03 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں اعضا عطیہ کے حوالے سے بیداری مہم جاری ہونے کے باوجود برین ڈیڈ مریضوں کے لواحقین کی جانب سے رضامندی نہ ملنے کے باعث گردہ پیوندکاری کے منتظر مریضوں کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ حکام کے مطابق اسی وجہ سے گردہ پیوندکا
جموں میں اعضاء عطیہ کرنے کے حوالے سے بیداری کے باوجود مریض گردہ پیوندکاری کے منتظر


جموں, 03 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں اعضا عطیہ کے حوالے سے بیداری مہم جاری ہونے کے باوجود برین ڈیڈ مریضوں کے لواحقین کی جانب سے رضامندی نہ ملنے کے باعث گردہ پیوندکاری کے منتظر مریضوں کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ حکام کے مطابق اسی وجہ سے گردہ پیوندکاری کی انتظار فہرست مسلسل طویل ہوتی جا رہی ہے۔

اسٹیٹ آرگن اینڈ ٹرانسپلانٹ آرگنائزیشن (سوٹا) کے مطابق سال 2022 میں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کو گردہ پیوندکاری کی منظوری ملنے کے بعد اب تک 36 مریضوں کے گردے کی پیوندکاری کی جا چکی ہے، تاہم تمام عطیات خون کے قریبی رشتہ داروں کی جانب سے دیے گئے۔ اسی عرصے میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں نو جبکہ سکمز صورہ میں تقریباً 180 گردہ پیوندکاریاں کی گئیں، لیکن ایک بھی برین ڈیڈ مریض کے اعضا عطیہ نہیں کیے گئے۔

حکام نے بتایا کہ اس وقت دو درجن سے زائد مریض گردہ پیوندکاری کے لیے انتظار کی فہرست میں شامل ہیں، مگر برین ڈیڈ مریضوں کے لواحقین کی رضامندی نہ ملنے کی وجہ سے ان کا علاج ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔جی ایم سی جموں میں گزشتہ دو برس کے دوران دس مریضوں کو برین ڈیڈ قرار دیا گیا، لیکن ان کے اہل خانہ نے اعضا عطیہ کرنے سے انکار کر دیا۔ سوٹا جموں کے ٹرانسپلانٹ کوآرڈینیٹر عرفان لون نے کہا کہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں مزید خاندان اعضا عطیہ کے لیے آگے آئیں گے، جس سے کئی مریضوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں اب تک 3,226 افراد اعضا عطیہ کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ ان میں جموں ضلع میں سب سے زیادہ 1,472، کٹھوعہ میں 378، راجوری میں 215، ڈوڈہ میں 162، ادھم پور میں 152، سانبہ میں 109 اور ریاسی میں 88 افراد شامل ہیں۔

ریاست میں گردہ پیوندکاری کی سہولت جی ایم سی جموں، جی ایم سی سری نگر اور سکمز صورہ میں دستیاب ہے، جبکہ قرنیہ پیوندکاری کی سہولت کئی سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فراہم کی جا رہی ہے۔ ایمس وجے پور میں بھی جلد قرنیہ پیوندکاری کی سہولت شروع کیے جانے کی توقع ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande