
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے دوپہیہ روڈ ایمبولینس کے آپریشن، تیاری اور حفاظتی معیارات کو منظم کرنے کے لیے مرکزی موٹر وہیکل رولز، 1989 میں ترمیم کے مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
مجوزہ ضوابط کے مطابق یکم اکتوبر 2027 سے تیار ہونے والی ایل-2 زمرے کی تمام دوپہیہ روڈ ایمبولینسوں کے لیے نئے حفاظتی اور عملی معیارات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس وقت دوپہیہ روڈ ایمبولینسوں کو مرکزی موٹر وہیکل قوانین کے تحت الگ گاڑی کے زمرے میں شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث ان کی تیاری، حفاظت، مریضوں کی منتقلی کے نظام، ٹائپ اپروول، رجسٹریشن اور فٹنس جانچ کے لیے کوئی قومی معیار موجود نہیں ہے۔
وزارت کے مطابق مجوزہ ترمیم کے ذریعے اے آئی ایس-209 (حصہ اول): 2026 معیار نافذ کرکے ان خامیوں کو دور کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ دوپہیہ روڈ ایمبولینسیں دیہی، دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں فوری طبی امداد فراہم کرنے اور صحت کی سہولتوں کو آخری فرد تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جہاں عام ایمبولینسوں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
یکم اکتوبر 2027 سے ایل-2 زمرے کی تمام نئی دوپہیہ روڈ ایمبولینسیں اے آئی ایس-209 (حصہ اول): 2026 کے معیار کے مطابق تیار کی جائیں گی۔ ان گاڑیوں پر نصب کیے جانے والے ہنگامی وارننگ ٹاپ لائٹس بھی اسی معیار کے مطابق ہوں گے۔
مجوزہ قواعد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان ایمبولینسوں کو صرف انہی علاقوں میں چلانے کی اجازت ہوگی جنہیں متعلقہ ریاستی حکومتیں نوٹیفائی کریں گی۔
انہیں ٹرانسپورٹ گاڑی کے زمرے میں رکھا جائے گا اور ہر دو سال بعد ان کے فٹنس سرٹیفکیٹ کی تجدید کرانا لازمی ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ