میئر کے دفتر کو آٹھویں بار بم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہوئی
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ دہلی کے میئر کے دفتر کو پیر کی صبح ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہوئی ۔ یہ آٹھواں موقع ہے جب میئر کے دفتر کو اس طرح کی بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میئر کے دفتر نے فوری طور پر سیکورٹی
MAYOR-OFFICE-RECEIVES-BOMB-THREAT-EIGHT-TIME


نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ دہلی کے میئر کے دفتر کو پیر کی صبح ایک بار پھر بم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہوئی ۔ یہ آٹھواں موقع ہے جب میئر کے دفتر کو اس طرح کی بم سے اڑانے کی دھمکی ملی ہے۔ واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میئر کے دفتر نے فوری طور پر سیکورٹی ایجنسیوں اور دہلی پولیس کو مطلع کیا جس کے بعد سیکورٹی انتظامات کو متحرک کر کے ضروری کارروائی شروع کر دی گئی۔

میئر کے دفتر سے سرکاری معلومات کے مطابق، یہ دھمکی آج صبح 9 بجے ایک نامعلوم ذریعے سے ای میل کے ذریعے موصول ہوئی، جس میں دوپہر 2 بجکر 11 منٹ پر بم دھماکہ کرنے کیبات کہی گئی تھی۔ دھمکی ملنے پر متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں اور دہلی پولیس کو بلا تاخیر مطلع کیا گیا تاکہ بروقت ضروری حفاظتی اقدامات کئے جا سکیں۔

اطلاع کے بعد دہلی پولیس اور متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں نے میئر کے دفتر کے احاطے کی مکمل اور جامع تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران دفتر کے اندر ہر حساس جگہ، داخلی و خارجی راستوں اور دیگر اہم مقامات کا مکمل معائنہ کیا گیا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے ضروری سیکورٹی پروٹوکول کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے پورے احاطے کا بغور معائنہ کیا۔

میئر کے دفتر نے واضح کیا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس طرح کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔ میئر کے دفتر کو اس سے پہلے سات بار بم سے اڑانے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس طرح کی دھمکیوں کے مسلسل موصول ہونے کو انتہائی سنگین معاملہ سمجھتے ہوئے، میئر کے دفتر نے پہلے دہلی پولیس کمشنر کو ایک باضابطہ خط بھیجا تھا، جس میں ان واقعات کی مکمل تحقیقات کرنے، مجرموں کی شناخت کرنے اور ان کے خلاف سخت اور موثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔

میئر کے دفتر نے کہا کہ عوامی اداروں اور آئینی عہدوں پر فائز دفاتر کو اس نوعیت کی بار بار دھمکیاں تشویشناک ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ جلد از جلد مجرموں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے شرارت بھرے اور خوف پیدا کرنے والے واقعات کا موثر انداز میں سدباب کیا جاسکے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande