
لداخ, 03 اگست (ہ س)۔ لداخ میں ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو تیز اور آسان بنانے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے اراضی کے استعمال سے متعلق منظوری کے اختیارات ڈی سینٹرلائز کر دیے ہیں۔ نئے فیصلے کے تحت میونسپل کمیٹیوں سے باہر واقع علاقوں میں مختلف سطحوں پر لینڈ یوز کی منظوری اب چیف سکریٹری اور ڈویژنل کمشنر بھی دے سکیں گے۔سرکاری ترجمان کے مطابق یہ اقدام عوام دوست اصلاحات اور شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل لینڈ یوز میں تبدیلی سے متعلق تمام درخواستوں کی منظوری صرف لیفٹیننٹ گورنر کے اختیار میں تھی، جس کے باعث متعدد ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ہوتی تھی۔
نئے انتظام کے مطابق دو کنال سے زائد اور چار کنال تک اراضی کے لینڈ یوز میں تبدیلی کی منظوری ڈویژنل کمشنر دیں گے، جبکہ چار کنال سے دو ایکڑ تک کے معاملات چیف سکریٹری نمٹائیں گے۔ دو ایکڑ سے زیادہ اراضی کے لیے منظوری کا اختیار بدستور لیفٹیننٹ گورنر کے پاس رہے گا۔ اس سے قبل 8 جولائی کو دو کنال تک کی رہائشی، تجارتی، صنعتی اور مخلوط استعمال کی اراضی کو پیشگی منظوری کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ لداخ میں ماسٹر پلان اور زونل ڈیولپمنٹ پلان ابھی تک نوٹیفائی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مکانات، تجارتی اداروں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ نئے عبوری فریم ورک کے ذریعے ان مسائل کو کم کرتے ہوئے منظوری کے عمل کو تیز، شفاف اور عوام دوست بنایا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر ونئے کمار سکسینہ نے کہا کہ اس فیصلے سے دیہی علاقوں کے رہائشی بغیر غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کے مکانات تعمیر کر سکیں گے، کاروبار قائم کر سکیں گے اور چھوٹے پیمانے کی صنعتی سرگرمیاں بھی شروع کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عبوری نظام اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک لداخ کے ماسٹر پلان، زونل ڈیولپمنٹ پلان اور دیگر قانونی ضابطے باضابطہ طور پر نافذ نہیں ہو جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر