ایران کا ٹرمپ کے دعوے کی تردید، کہا: امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے
تہران،03اگست(ہ س)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت جاری نہیں، جبکہ تہران
ایران کا ٹرمپ کے دعوے کی تردید، کہا: امریکہ کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے


تہران،03اگست(ہ س)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نئے مذاکرات کا آغاز ہونے والا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت جاری نہیں، جبکہ تہران کی تمام تر توجہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ شب کہا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔بقائی نے کہا کہ تہران گزشتہ آٹھ روز سے سلطنتِ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نظام اور سلامتی سے متعلق مسلسل مشاورت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی کوشش ہے کہ عمان کے ساتھ تعاون کے ذریعے ایسا قابلِ قبول انتظام وضع کیا جائے جس سے بحری آمد و رفت کو محفوظ بنایا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کو اس کی سابقہ حالت میں بحال کرنا نہیں بلکہ ایک نئے بحری راستے پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔ ان کے بقول یہ راستہ نہ موجودہ شمالی گزرگاہ ہوگا اور نہ ہی موجودہ جنوبی راستہ، بلکہ دونوں ممالک کی مشاورت سے طے کیا جانے والا ایک نیا روٹ ہوگا۔اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کسی بھی صورت 28 فروری سے پہلے والی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی۔ ان کے مطابق خطے میں پیدا ہونے والی نئی سکیورٹی صورتِ حال کے بعد بحری آمد و رفت کے لیے نئے انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر سخت کنٹرول نافذ کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی اور ان سے فیس وصول کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

جنگ بندی کے بعد ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز کے شمالی حصے، جو ایرانی ساحل کے قریب واقع ہے، کو بحری جہازوں کے لیے مخصوص راستہ قرار دیا اور ہدایت کی کہ تمام تجارتی اور دیگر بحری جہاز اسی روٹ کو استعمال کریں۔

دوسری جانب امریکہ، اس کے خلیجی اتحادیوں کے علاوہ یورپی اور ایشیائی ممالک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو تنازع سے قبل کی طرح مکمل طور پر آزاد اور بین الاقوامی بحری آمد و رفت کے لیے کھولا جائے، کیونکہ یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔سی بی ایس نیوز کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات صرف جہاز رانی کے انتظام اور سلامتی سے متعلق ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے حوالے سے فی الحال کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande