اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی،ایران میں دو افراد کو سزائے موت
تہران،03اگست(ہ س)۔ ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی۔ ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد پر حساس فوجی اور سکیورٹی معلومات اسرائیل تک پہنچانے کا الزام ثابت ہونے کے بعد پیر کی صبح ا
اسرائیل کے لیے مبینہ جاسوسی،ایران میں دو افراد کو سزائے موت


تہران،03اگست(ہ س)۔ ایران نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو سزائے موت دے دی۔ ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد پر حساس فوجی اور سکیورٹی معلومات اسرائیل تک پہنچانے کا الزام ثابت ہونے کے بعد پیر کی صبح ان کی پھانسی پر عمل درآمد کیا گیا۔ایران کی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کے مطابق سزائے موت پانے والوں کی شناخت امید بہزاد اور پوریا صفوت کے نام سے کی گئی ہے۔ عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افراد مبینہ طور پر موساد کے افسران اور اس سے وابستہ مواصلاتی نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے ایران کے فوجی اور سکیورٹی مراکز کے محلِ وقوع، تصاویر اور دیگر حساس معلومات اسرائیلی انٹیلی جنس کو فراہم کیں۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ مقدمہ قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت چلایا گیا، جس میں دونوں ملزمان کو جاسوسی اور دشمن ملک کے ساتھ تعاون کا مجرم قرار دیا گیا۔ تاہم عدلیہ نے مقدمے کی کارروائی، پیش کیے گئے شواہد یا مبینہ معلومات کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، وکلا اور حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایران میں قومی سلامتی اور جاسوسی سے متعلق مقدمات میں عدالتی کارروائی اکثر بند کمرے میں ہوتی ہے، ملزمان کو اپنی پسند کے وکیل تک مکمل رسائی نہیں ملتی اور بعض مقدمات میں اعترافی بیانات کے حصول کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں سزائے موت پر نسبتاً تیزی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے، جس سے شفاف عدالتی عمل اور منصفانہ سماعت کے تقاضوں پر خدشات جنم لیتے ہیں۔ ایران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور جاسوسی کے مقدمات ملکی قوانین کے مطابق نمٹائے جاتے ہیں اور عدالتیں دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلے صادر کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر انٹیلی جنس سرگرمیوں، سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام متعدد افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کرنے کے دعوے بھی کر چکے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande