
جکارتہ،03اگست(ہ س)۔ انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا کے قریب ایک مسافر بردار بحری جہاز میں آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہو گئے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران 225 مسافروں اور عملے کے ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
انڈونیشیا کی قومی تلاش و امداد ایجنسی کے مطابق موتیارا سنتوسا 2 نامی مسافر بردار جہاز اتوار کی صبح مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے جنوبی سولاویسی کے شہر مکاسر جا رہا تھا۔ جہاز میں 232 مسافر اور 39 افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا۔ صبح تقریباً چھ سے سات بجے کے درمیان سومینپ کے ساحلی علاقے کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ایجنسی کے مطابق جہاز چلانے والی کمپنی بی ٹی اٹوسیم لامپونگ پلایاران نے حادثے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد سورابایا کے ریسکیو مرکز کو اطلاع دی، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
اتوار کی دوپہر تک امدادی ٹیموں اور قریب موجود کئی بحری جہازوں نے 225 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا، جبکہ پانچ افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 40 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق آگ مدورا جزیرے کے شمالی ساحل کے قریب لگی، تاہم کچھ ہی دیر بعد جہاز کے کپتان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ بعد ازاں ایک مال بردار جہاز میراتوس پروجیکٹ 3 سے رابطے کے ذریعے جلتے ہوئے جہاز کا مقام معلوم کیا گیا، جو بوروان سابودی جزیرے سے تقریباً 19 بحری میل شمال میں موجود تھا۔ مال بردار جہاز آتش گیر سامان لے جانے کی وجہ سے زیادہ قریب نہیں جا سکا۔
قومی تلاش و امداد ایجنسی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں جہاز سے گھنا سیاہ دھواں اٹھتے اور آگ کو جہاز کے مختلف حصوں تک پھیلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں خوفزدہ مسافر لائف جیکٹس پہنے امداد کے منتظر دکھائی دیتے ہیں، جبکہ بعض افراد جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگاتے بھی نظر آتے ہیں۔حکام نے بتایا کہ آتش زدگی کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan