گوئل نے ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری پر زور دیا
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کو اگلے تین برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف بنانا چاہئے۔ کان کنی، دواسازی اور صحت کی دیکھ بھال جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بے پناہ ا
India-and-Uzbekistan-should-aim-to-double-bilatera


نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کو اگلے تین برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کا ہدف بنانا چاہئے۔ کان کنی، دواسازی اور صحت کی دیکھ بھال جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے بے پناہ امکانات ہیں۔گوئل نے نئی دہلی میں ہندوستان-ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے میں تجارت اہم کردار ادا کرے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 1.5 ارب امریکی ڈالر ہے۔

ہندوستان-ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا،”آئیے ہم دو طرفہ تجارت کو اگلے تین برسوں میں دوگنا کرنے کا ہدف رکھیں۔“ وزیر تجارت و صنعت نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں سے ایک دوسرے کی معیشتوں میں سرمایہ کاری کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف زیادہ سرمایہ کاری، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور صحت کی دیکھ بھال اور دواسازی جیسے شعبوں میں گہرے تعاون کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

گوئل نے کہا کہ ہندوستان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)، ہنر مند افرادی قوت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں مضبوط ہے۔وہیں، ازبکستان کان کنی اور کپاس کی پیداوار جیسے شعبوں میں مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ دونوں ممالک آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے ) کے لیے بات چیت شروع کرنے پر غور کریں تو یہ ایک اچھا خیال ہے ۔ ہم اس سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت لازیز قدرتوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارت اصل امکانات کے مقابلے کافی کم ہے۔ اسے بڑھانے کے لیے دونوں فریقوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 400 ہندوستانی کمپنیاں ازبکستان میں کام کرتی ہیں۔ قدرتوف نے فولاد، دواسازی ، صحت کی دیکھ بھال، کان کنی اور آٹوموٹیو کے شعبوں میں ہندوستانی سرمایہ کاری پر زور دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande