حیدرآباد پر سائبر فراڈیوں کا شکنجہ، معاشی جرائم کے سلسلہ وار واقعات میں خطرناک اضافہ
حیدرآباد ، 3 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد، جسے کبھی ہندوستان کاسائبردارالحکومت کہا جاتا تھا، اب ایک ابھرتی ہوئی اورتشویشناک حقیقت کا سامنا کر رہا ہے‘ یہ سائبر مجرموں کے لیے ایک آسان شکار گاہ بن چکا ہے۔ جس ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے نے شہر کے آئی ٹی انقلاب
حیدرآباد پر سائبر فراڈیوں کا شکنجہ‘ معاشی جرائم کا خطرناک طوفان


حیدرآباد ، 3 اگست (ہ س)۔

حیدرآباد، جسے کبھی ہندوستان کاسائبردارالحکومت کہا جاتا تھا، اب ایک ابھرتی ہوئی اورتشویشناک حقیقت کا سامنا کر رہا ہے‘ یہ سائبر مجرموں کے لیے ایک آسان شکار گاہ بن چکا ہے۔ جس ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے نے شہر کے آئی ٹی انقلاب کو طاقت دی تھی، اب اسے شہریوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سال 2025 میں تلنگانہ میں درج ہونے والی ہر چار بڑی ایف آئی آرز میں سے ایک سائبر کرائم سے متعلق ہے، جس سے اس مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اعداد و شمار ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ صرف 2025 میں تلنگانہ میں سائبر کرائم کی 21,639 ایف آئی آرز درج کی گئیں جوکہ قومی مجموعی تعداد کا44 فیصد ہے‘جس میں 1,524کروڑ روپے سے زائد کا مالی نقصان ہوا۔ حیدرآباد کے پولیس کمشنروی سی سجنار نے کہا کہ حیدرآباد کمشنریٹ کے تحت شہری آن لائن دھوکہ دہی کی وجہ سے روزانہ اوسطاً 1 کروڑ روپے سے محروم ہو رہے ہیں۔ صرف ماہِ اکتوبر 2025میں سائبر مجرموں نے 196 معاملات کے ذریعے حیدرآباد کے شہریوں سے 5.68 کروڑ روپے لوٹ لیے۔

ان اعداد و شمار کے پیچھے حقیقی لوگ ہیں: وہ خاندان جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کھو رہے ہیں،چھوٹے کاروباری جن کے بینک اکاؤنٹس راتوں رات منجمد ہو جاتے ہیں، اور وہ بزرگ شہری جنہیں نفسیاتی چالوں کے ذریعے کروڑوں روپے دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سب سے عام خطرہ : ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) کے ذریعے کی جانے والی دھوکہ دہی حیدرآباد میں سائبر کرائم کی سب سے عام شکل بن چکی ہے۔ مجرم دھوکہ دہی پرمبنی فون کالز، ایس ایم ایس، واٹس ایپ پیغامات، جعلی کسٹمر کیئر نمبرز اور فرضی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو او ٹی پی شیئر کرنے پر راغب کرتے ہیں۔ ایک بار او ٹی پی حاصل کرنے کے بعد، یہ مجرم رقم نکال لیتے ہیں، کریڈٹ کارڈز کا غلط استعمال کرتے ہیں، ای کامرس اکاؤنٹس پرقبضہ کرلیتے ہیں اور شناخت چوری کرتے ہیں۔ فرضی ریفنڈ یاکیش بیک کی ترغیب دینا، فوری قرض یا ملازمت کی منظوری کا وعدہ کرنا، اور ڈلیوری ایجنٹ کا روپ دھارنا شامل ہے۔ مزید پیچیدہ اسکیموں میں، مجرم او ٹی پی کا استعمال سم سوپ کے لیے کرتے ہیں، جس سے بینکنگ الرٹس روک کرغیرمجاز لین دین ممکن بنایا جاتا ہے۔ ان جرائم کی پیچیدگی تشویشناک ہے۔ ایک معاملے میں، 77.7 لاکھ روپے کے سم سویپ فراڈ کے سلسلے میں چھ افراد کوگرفتارکیا گیا، جہاں انہوں نے او ٹی پی کو ڈائیورٹ کرنے کے لیے متاثرین کو پہلے سے لوڈ شدہ موبائل ڈیوائسز کوریئر کے ذریعے بھیجیں۔ بینک حکام بن کر،انہوں نے متاثرین کو ای-سم کو فزیکل سم میں تبدیل کرنے اوران آلات میں داخل کرنے پرآمادہ کیاجن میں بدعنوان ایپلی کیشنز شامل تھیں۔

اس سے بھی زیادہ منظم’گھوسٹ سم‘نیٹ ورک ہے۔ آپریشن آکٹوپس 3.0 کے ذریعہ حیدرآباد پولیس نے 66 افراد کوگرفتارکیا جو کہ پورے ہندوستان میں 101.87 کروڑ روپے کے 76سائبرکرائم کیسز سے منسلک تھے۔ یہ گھوسٹ سمز‘جوبے خبرصارف کے نام پر فرضی طورپرایکٹیویٹ کی جاتی ہیں‘منظم سائبرمجرموں کو گمنامی فراہم کرتی ہیں۔ پوائنٹ آف سیل(پی اوایس) ایجنٹس کوگاہکوں کے علم کے بغیر اضافی سم کارڈ ایکٹیویٹ کرتے اور بیرون ملک بھیجنے کے لیے ای-سم میں تبدیل کرتے ہوئے پایا گیا۔ نقد رقم حوالے کیے جانے کے بعد، اسکامرز سائبر کرائم کی فرضی شکایات درج کرواتے ہیں جس سے متاثرہ شخص کا بینک اکاؤنٹ منجمد ہو جاتا ہے۔ حیدرآباد میں صرف چار ماہ میں ایسے کم از کم چار معاملات سامنے آئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande