یونان میں آگ بجھانے کے دوران دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، عملے کے دو ارکان ہلاک
ایتھنز، 3 اگست (ہ س)۔ یونان میں جنگلات میںلگی آگ پر قابوپانے کی مہم کے دوران دو ہیلی کاپٹر فضا میں ہی آپس میں ٹکرا گئے، جس سے عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک یونانی کوآرڈینیٹر اورایک ڈینش پائلٹ شامل ہیں۔ فرانسیسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک
Greece-Forest-Fire-Helicopters-Collided-Crew-Membe


ایتھنز، 3 اگست (ہ س)۔ یونان میں جنگلات میںلگی آگ پر قابوپانے کی مہم کے دوران دو ہیلی کاپٹر فضا میں ہی آپس میں ٹکرا گئے، جس سے عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک یونانی کوآرڈینیٹر اورایک ڈینش پائلٹ شامل ہیں۔

فرانسیسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک فرانس 24 اور روسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک رشیا ٹوڈے کی رپورٹوں کے مطابق، دونوں ہیلی کاپٹر جمعے سے جنگل میں لگی ایک بڑی آگ پر قابو پانے کے لیےمہم میں مصروف تھے۔ٹکر کے بعد ایک ہیلی کاپٹر آگ کی زد میں آکر زمین پر گر کر تباہ ہوگیا جب کہ دوسرے ہیلی کاپٹر کے عملے کو بحفاظت بچالیا گیا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دونوں ہیلی کاپٹر آسٹریلیا کی فضائی آگ بجھانے والی کمپنی میک ڈرموٹ ایوی ایشن سے لیز پر لیے گئے تھے۔ ابتدائی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک ہیلی کاپٹر دوسرے کی پرواز کے راستے میں آ جاتا ہے، جوٹکر کا باعث بنتا ہے۔ حکام نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس ماڈل کے ہیلی کاپٹروں کی پرواز کو روک دیا ہے۔

یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس متسوٹاکس نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کو ”انتہائی مشکل حالات میں آگ سے لڑنے والے فرنٹ لائن جنگجو“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس وقت شدید موسم اور تیز ہواؤں کی وجہ سے انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران یونان میں کم از کم 220 جنگلات میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ تقریباً 500 فائر فائٹرز اور 23 طیارے ایتھنز کے مغرب میں ایک بڑی آگ سے نمٹنے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ تاہم، تیز ہواؤں نے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی، جس سے ہوائی جہاز کے لیے سمندر سے پانی لانا بھی خطرناک ہو گیا۔

کئی یورپی ممالک اس وقت جنگل کی شدید آگ سے نبرد آزما ہیں۔ خشک موسم، تیز ہواؤں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بجھانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یونانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دن مشکل ہو سکتے ہیں کیونکہ کئی علاقوں میں آگ کا خطرہ برقرار ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande