گاگر میں ساگر بھرنے کی شاعری کی صنف ہے دوہا ،غالب اکیڈمی میں ڈاکٹر منوج ابودھ کا اظہار خیال
نئی دہلی،03اگست(ہ س)۔ گزشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی میں شاعری کی صنف دوہا لکھنے والے شعرا کے مسابقے کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر خسرو اردو اور ہندی کے پہلے شاعر ہیں۔انہوں نے دوہے ،پہلیاں،انمل جیسی عوام
دوہا گاگر میں ساگر بھرنے کی صنف شاعری ہے،غالب اکیڈمی میں ڈاکٹر منوج ابودھ کا اظہار خیال


نئی دہلی،03اگست(ہ س)۔ گزشتہ روز غالب اکیڈمی ،نئی دہلی میں شاعری کی صنف دوہا لکھنے والے شعرا کے مسابقے کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر عقیل احمد نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر خسرو اردو اور ہندی کے پہلے شاعر ہیں۔انہوں نے دوہے ،پہلیاں،انمل جیسی عوامی دلچسپی کی اصناف میں شاعر ی کی ہے۔آج دوہے پہلیاں اور انمل جیسی اصناف میں کم لکھا جارہا ہے۔ مسابقے میں16شعرا نے اپنے دوہے پیش کئے۔اس موقع پر مہمان خصوصی ہندی کے مشہور شاعر اور صحافی ڈاکٹر منوج ابودھ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دوہے میں تیرہ گیارہ کا اور قافیے کا التزام ہی کافی نہیں ہے۔ دوہا گاگر میں ساگر بھرنے کی صنف ہے۔ ایک دوہا طویل تصنیف پر بھاری ہوسکتا ہے۔ اس میں تبدیلی اور توسیع کی بڑی گنجائش ہے۔

اردو کے مشہورشاعر شاہد انور نے کہا کہ دوہا ماترائوں اور قافیہ پیمائی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک مصر عے میں منفی بات کہہ کر دوسرے مصرعے میں اسے مثبت بنا کر پیش کرنے کا عمل ہے۔اس موقع پر شعرا کا انتخاب اور مشاعرہ کی ناظمہ ڈاکٹر سنتوش سمپرتی نے کہا کہ ہندی میںدوہا لکھنے کا چلن بہت زیادہ ہے اس کی اطلاع فیس بک پر دی گئی تو بہت سے شعرا نے دوہا پیش کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان میں سے 16شاعروں کا انتخاب کرکے مشاعرے میں دوہا پڑھنے کی دعوت دی گئی۔یہ ہندی اردو زبان میں ایک شاندار ابتدا ہے۔دوہے کا الگ کوی سمیلن مشاعرہ نہیں ہوتا۔غالب اکیڈمی نے وزیر ثقافت حکومت ہند کے تعاون سے بہت مبارک قدم اٹھایا ہے۔ جس کی بڑی پذیرائی ہو رہی ہے۔ہندی کی شاعرہ سریتا گپتا اور اردو کے شاعر شاہد انور نے تین شعرا کا انتخاب کیا جن میں اول کو پندرہ سو روپے،دوم کو چودہ سو روپے اور سوم کوتیرہ سو روپے کا انعام دینے کا اعلان بھی کیا۔

ہر یگ کچھ کہتا سدا پڑھ لو وید پران

سورگ وہیں ہوتا جہاں، ناری کا سمّان

سنگیتا ورما

چاہے سنت کبیر ہوں،میرا یا رسکھان

تپ کے بل پر ہی سبھی،اونچی اڑے اڑان

سریش مہرا (راج)

جو من میں پت جھڑ بھرے،گز بھر رہنا دور

دل کی ساری حسرتیں،پل میں کرتے چور

پنیتا سنگھ

دیش لٹتے گھوس سے ، نیتا تج کر لاج

دین جنوں کی آہ سے، دہک اٹھے گا تاج

پرتیوش گوتم

جیون نیّا ہے کھڑی،پھنسی بیج مجدھار

جیون میرا تار دو،جگ کے پالن ہار

سریکھا ساہو

جھوٹ ،پاپ، انیاے پر ،کرنا ہوگا وار

ستیہ کتھن کی لیکھنی،لیکھک کا ہتھیار

وندنا چو دھری

بھارت دیش مہان ہے،ہند ہماری شان

ہندی کا سمّان کر،اس پر کر ابھیمان

رجنی بالا (سہج)

جو نج سکھ کو چھوڑ کر،کرتے جن ہت کام

این یوگوں تک جگت میں،رہتا ان کا نام

دیوورت شرما(این)

خسرو اور رحیم نے،پکڑی یہی لکیر

دوہے لکھ تلسی ترے،دیکھو داس کبیر

گستاخ ہندستانی

بابو جی کی کھانسی میں، گھلتی رہی تھکان

دوا پڑی سرہانے پر،ویست رہا انسان

جیتندر جیت

روٹی مانگے آدمی،ملتے ہیں اپدیش

جیسے تیسے چل رہا، میرا پیارا دیش

گولڈی غضب

تانے بانے بھنّ سب، ایک ہوا پریدھان

سوت سوت کا مان ہی، بنتا ہندوستان

آرتی جھا آدّیہ

اس موقع پر روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ اڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری،ہندوستان ٹائمس کے کالم نگار مینک آسٹن صوفی، پروین ویاس ،سیما کوشک، کمال الدین،روی پٹور دھن،سجاد رضوی، اردو کے طلبا،انور میاں ایڈوکیٹ،اقرائ انصاری، تسمیہ رفیق، راہل رائے،سورج پال سنگھ ادنیٰ،خطاطی کے استاد شمیم احمد اور طلبا نے شرکت کی۔ آخر میں غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹرعقیل احمد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غالب اکیڈمی کی ماہانہ شعری نشست 8/ اگست2026کو منعقد کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande