
نئی دہلی، 3 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتارمن نے پیر کے روز لوک سبھا میں ’بینکرز بُکس ایویڈنس بل، 2026‘ پیش کیا۔ یہ بل نوآبادیاتی دور کے 125 سال پرانے بینکرز بُکس ایویڈنس ایکٹ، 1891 کی جگہ لے گا۔ نئے قانون کا مقصد بینکنگ ریکارڈ کے لیے قانونی نظام کو جدید بنانا، ڈیجیٹل طریقۂ کار کو فروغ دینا اور بینکوں کو غیر ضروری قانونی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
سیتارمن نے یہ بل اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے درمیان پیش کیا۔ اپوزیشن ارکان ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ چڑھاوے کی چوری اور دہلی میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملات کو لے کر نعرے بازی کر رہے تھے۔
مجوزہ قانون میں ’بینکار بہی‘ (بینکرز بُکس) کی تعریف کا دائرہ بڑھا کر ڈیجیٹل، کلاؤڈ پر مبنی اور دیگر الیکٹرانک ریکارڈز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ بل 1891 کے نوآبادیاتی دور کے ’بینکرز بُکس ایویڈنس ایکٹ‘ کی جگہ لے گا۔
اس بل کا مقصد بینکوں کی کتابوں سے متعلق شواہد کے لیے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق قانونی نظام تیار کرنا اور اسے ڈیجیٹل بینکنگ کے طریقوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس میں بینکنگ ریکارڈ سے متعلق دیگر معاملات کے لیے بھی ضابطے مقرر کیے گئے ہیں۔
بل میں عدالتوں کے سامنے ڈیجیٹل اور الیکٹرانک بینکنگ ریکارڈ کو ثبوت کے طور پر پیش کرنے اور ان کی تصدیق کے لیے واضح اور یکساں قواعد وضع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بینک افسران کو بغیر ٹھوس بنیاد کے بار بار عدالتوں میں طلب کیے جانے سے بچانے کے لیے ’خصوصی وجہ‘ جانچ کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد